نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور اُن کے لئے وہ ساعت ہوگئی۔ قرآنی محاورہ کی رُو سے ساعۃ عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ سو خبر دی گئی تھی کہ یہ ساعۃ حضرت عیسیٰ کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہوگی۔ پس وہ نشان ظہور میں آگیا اور وہ ساعۃ یہودیوں پر نازل ہوگئی۔ اور نیز اُس زمانہ میں طاعون بھی ان پر سخت پڑی اور درحقیقت اُن کے لئے وہ واقعہ قیامت تھا۔ جس کے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہوگئے اور ہزارہا طاعون سے مَرگئے۔ اور باقی ماندہ بہت ذلّت کے ساتھ متفرق ہوگئے۔ قیامت کُبریٰ تو تمام لوگوں کے لئے قیامت ہوگی مگر یہ خاص یہودیوں کے لئے قیامت تھی، اِس پر ایک اور قرینہ قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ3 ۱؂ یعنی اے یہودیو!عیسیٰ کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائے گاکہ قیامت کیا چیز ہے۔ اُس کے مثل تمہیں دی جائے گی۔ یعنی 3َ 33 ۲؂ وہ قیامت تمہارے پر آئے گی اِس میں شک نہ کرو۔صاف ظاہر ہے کہ قیامت حقیقی جو اب تک نہیں آئی اُس کی نسبت غیر موزوں تھا کہ خدا کہتا کہ اس قیامت میں شک نہ کرو اور تم اُس کو دیکھو گے۔ اُس زمانہ کے یہودی تو سب مَر گئے اور آنے والی قیامت اُنہوں نے نہیں دیکھی۔ کیا خدا نے جھوٹ بولا۔ ہاں طیطوس رُومی والی قیامت دیکھی۔ سو قیامت سے مُراد وہی قیامت ہے جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی اور پھر طاعون کے ذریعہ سے اُس کو دیکھ لیا۔ یہ خدا کی کتابوں میں پُرانا وعدہ عذاب کا چلا آتا تھا جس کا بائبل میں جا بجاذِ کر پایا جاتا ہے۔ قرآن شریف میں اس کے لئے خاص ؔ آیت نازل ہوئی۔ یہی وعدہ قرآن شریف میں اور پہلی کتابوں میں موجود ہے اور اسی سے یہودیوں کو تنبیہ ہوئی۔ ورنہ دُور کی قیامت سے کون ڈرتا ہے۔ کیا اِس وقت کے مولوی اُس قیامت سے ڈرتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اور جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کیا ہے۔ یہ لفظ ساعۃ کا کچھ قیامت سے خاص نہیں اور نہ قرآن نے اِس کو قیامت سے خاص رکھا ہے۔ افسوس کہ نیم مُلّا جن کی عاقبت خراب ہے اپنی جہالت سے ایسے ایسے معنے کر لیتے ہیں جن سے اصل مطلب فوت ہو جاتا ہے۔ آخری قیامت سے یہودیوں کو کیا خوف تھا۔ مگر قریب کے عذاب کی پیشگوئی بیشک اُن کے دِلوں پر اثر ڈالتی تھی۔