جن کی درایت عمدہ نہیں تھی۔عیسائیوں کے اقوال سُن کر جو اردگرد رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابوہریرہ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے جن کو خدا نے علم قرآن عطا کیا تھا یہ آیت پڑھی تو سب صحابہ پر موت جمیع انبیاء ثابت ہوگئی اور وہ اِس آیت سے بہت خوش ہوئے اور اُن کا وہ صدمہ جو اُن کے پیارے نبی کی موت کا اُن کے دِل پر تھاجاتاؔ رہا اور مدینہ کی گلیوں، کوچوں میں یہ آیت پڑھتے پھرے۔ اسی تقریب پر حسّان بن ثابت نے مرثیہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں یہ شعر بھی بنائے۔ شعر کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِی عَلَیْکَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ یعنی تُو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھوں کی پُتلی تھا۔ مَیں تو تیری جُدائی سے اندھا ہوگیا۔ اب جو چاہے مرے عیسیٰ ہو یا موسیٰ۔ مجھے تو تیری ہی موت کا دھڑکا تھا۔ یعنی تیرے مرنے کے ساتھ ہم نے یقین کر لیا کہ دوسرے تمام نبی مر گئے ہمیں اُن کی کچھ پَروا نہیں۔ مصرعہ عجب تھا عشق اس دل میں محبت ہو تو ایسی ہو پھر آپ لوگ خدا تعالیٰ کو اِس طرح پر جھوٹا قرار دیتے ہیں کہ خدا تو کہتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسیٰ اور اُس کی ماں کو ہم نے ایک ٹیلہ پر جگہ دی جس میں صاف پانی بہتا تھا یعنی چشمے جاری تھے بہت آرام کی جگہ تھی اور جنت نظیر تھی جیسا کہ فرماتا ہے333 ۱؂ یعنی ہم نے واقعہ صلیب کے بعد جو ایک بڑی مصیبت تھی عیسیٰ اور اُس کی ماں کو ایک بڑے ٹیلہ پر جگہ دی جو بڑے آرام کی جگہ اور پانی خوشگوار تھا یعنی خطہء کشمیر۔ اب اگر آپ لوگوں کو عربی سے کچھ بھی مس ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اٰوی کا لفظ اُسی موقعہ پر آتا ہے کہ جب کسی مصیبت پیش آمدہ سے بچا کر پناہ دی جاتی ہے یہی محاورہ تمام قرآن شریف میں اور تمام اقوال عرب میں اور احادیث میں موجود ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام سے ثابت ہے کہ