حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی تمام عمر میں صرف صلیب کی ہی مصیبت پیش آئی تھی۔ اور حدیث سے ثابت ہے کہ مریم کو تمام عمر میں اسی واقعہ سے سخت غم پہنچا تھا۔ پس یہ آیت بلند آواز سے پکاررہی ہے کہ اس واقعہ صلیب کے بعد خدا تعالیٰ نے اس آفت سے حضرت عیسیٰ کو نجات دے کراس موذی ملک سے کسی دوسرے ملک میں پہنچا دیا تھا جہاں پانی صاف کے چشمے بہتے تھے اور اونچا ٹیلہ تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آسمان پر بھی کوئی چشمہ دار ٹیلہ ہے جس پر خدا تعالیٰ نے واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح کو جا بٹھایا اور ماں کو بھی۔ اور حضرت مسیح کے سوانح میں غور کر کے کوئی نظیر تو پیش کرو کہ کسی مصیبت کے بعد اُنہیں ایسے ملک میں جگہ دی گئی ہو جو آرام گاہ اور جنت نظیر ہو اوربڑاؔ ٹیلہ ہو تمام دنیا سے بلند۔ اور چشمے جاری ہوں۔ پس آپ کے خیال کے رُو سے خدا تعالیٰ نعوذ باللہ صریح جھوٹا ٹھہرتاہے کہ وہ تو صلیب کے بعد ٹیلہ کا ذکر کرتا ہے جس میں عیسیٰ اور اُس کی ماں کو جگہ دی گئی اور آپ لوگ خواہ مخواہ اُس کو آسمان پر بٹھاتے ہیں اور محض بیکار۔ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ نبی ہو کر اتنی مُدّت کیوں بیکار بیٹھ رہا ہے اور پھر آپ لوگ اور مولوی ثناء اللہ جو اِس آیت سے انکار کر کے دوسرے آسمان پر اُس کو پہنچاتے ہیں اِس بات کا کچھ جواب نہیں دے سکتے کہ زندہ مُردوں کی رُوحوں میں کیوں جا بیٹھا۔ وہ لوگ تو اِس دنیا سے باہر ہوگئے ہیں اور دوسرے جہاں میں پہنچ گئے۔ کیا وہ بھی دوسرے جہان میں پہنچ گیا ہے۔
اور خدا پر یہ بھی جھوٹ ہے کہ گویا خدا نے یہودیوں کا مطلب نہیں سمجھا اور سوال دیگر جواب دیگر کی مثل اپنے پرصادق کی۔ یہودی توکہتے تھے کہ مسیح کی رُوح کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور خدا ان کا یہ جواب دیتا ہے کہ مَیں نے اس کو زندہ مع جسم دوسرے آسمان پر اُٹھالیا اور پھر کسی وقت ماروں گا۔ بھلا یہ کیا جواب ہوا۔ سوال تو یہ تھاکہ مَرنے کے بعد عیسیٰ کا رفع نہیں ہوااور نعوذ باللہ وہ ملعون ہے اِس سوال کا جواب تو یہ تھا کہ ابھی تو عیسیٰ نہیں مَرا۔ جب مرے گا تو مَیں اپنی طرف