عیسیٰ علیہ السلام کی وفات آیت 3۱؂ میں صاف طور پر بیان کردی اور بتصریح حضرت عیسیٰکا یہؔ عذر پیش کر دیا کہ میری وفات کے بعد یہ لوگ بگڑے ہیں۔پس خدا سمجھا رہا ہے کہ اگر حضرت عیسٰی فوت نہیں ہوئے تو عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے کیونکہ عیسائیوں کا راہِ راست پر رہنا صرف اُن کی حیات تک ہی وابستہ رکھا گیا تھا۔ اور عیسائیوں کی ضلالت کی علامت حضرت عیسٰی ؑ کی وفات پر ٹھہرائی گئی تھی۔ اب کہو اِس صورت میں آپ کے نزدیک خدا کیونکرسچا ٹھہر سکتا ہے جس کا بیان باور نہیں کیا گیا۔ اَور ایسا ہی آیت 33۲؂ میں سب نبیوں کی وفات ایک مُشترک لفظ میں جو خَلَتْ ہے خدا نے ظاہر کی تھی اور حضرت عیسیٰ کے لئے کوئی خاص لفظ استعمال نہیں فرمایا تھا۔ یہ بھی نعوذ باللہ آپ لوگوں کے نزدیک خدا کا ایک جھوٹ ہے۔ یہ وہی آیت ہے جس کے پڑھنے سے حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت کی تھی۔ ابوبکر کی بھی یہ منطق خوب تھی کہ باوجودیکہ عیسیٰ آسمان پر زندہ بیٹھا ہے پھر وہ لوگوں کے سامنے یہ آیت پڑھتا ہے یہ کس قسم کی تسلّی دیتا ہے۔ کیا اس کو معلوم نہیں کہ عیسیٰ تو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے اور پھر دوبارہ آئے گا اور چالیس برس رہے گا۔ عیسیٰ کی وہ عمر اور افضل الرسل کی یہ عمر 3 ۳؂ ۔ اور صحابہ بھی خوب سمجھ کے آدمی تھے جو اس آیت کے سننے سے ساکت ہوگئے اور کسی نے ابوبکر کو جواب نہ دیا کہ حضرت آپ یہ کیسی آیت پڑھ رہے ہیں جو اور بھی ہمیں حسرت دلاتی ہے عیسیٰ تو آسمان پر زندہ اور پھر آنے والا اور ہمارا پیارا نبی ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا۔ اگر عیسیٰ اِس قانون قدرت سے باہر اور ہزارہا برس کی عمر پانے والا اور پھر آنے والا ہے تو ہمارے نبی کو یہ نعمت کیوں عطا نہ ہوئی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ نے جو اُس وقت تمام حاضر تھے اُن میں سے ایک بھی غائب نہ تھا۔ اِس آیت کے یہی معنے سمجھے تھے کہ تمام انبیاء فوت ہوچکے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو