ایکؔ جہان ضائع ہوگا۔ اے میرے قادر خدا تو نزدیک آجا اور اپنی عدالت کی کُرسی پر بیٹھ اور یہ روز کے جھگڑے قطع کر۔ ہماری زبانیں لوگوں کے سامنے ہیں اور ہمارے دِلوں کی حقیقت تیرے آگے منکشف ہے۔ مَیں کیونکر کہوں اور کیونکر میرا دِل قبول کرے کہ تو صادق کو ذلّت کے ساتھ قبر میں اُتارے گا۔ اوباشانہ زندگی والے کیونکر فتح پائیں گے۔ تیری ذات کی مجھے قسم ہے کہ تُو ہرگز ایسا نہیں کریگا۔ اور جس قدر مولوی ثناء اللہ صاحب نے خلاف واقعہ اعتراضات اور جھوٹی قسموں سے موضع مُدّ کے جلسہ میں میری توہین کی ہے وہ تمام میرے شکوے خدا تعالیٰ کے سامنے ہیں اور مجھے اِس تکذیب کا کچھ رنج بھی نہیں کیونکہ جبکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی کذّاب قرار دیتے ہیں تو اگر مجھے بھی کذّاب کہیں تو ان پر کیا افسوس کرنا چاہئے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے اِس سوال پر کہ کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو عیسیٰ نے جھوٹ بولا یعنی ایسا جواب دیا کہ سراسر جھوٹ تھا کیونکہ اُنہوں نے کہا کہ جب تک مَیں اپنی اُمّت میں تھا تو اُن پر گواہ تھا اور جب تُو نے وفات دے دی تو پھر تو اُن کا رقیب تھا مجھے کیا معلوم کہ میرے پیچھے کیا ہوا۔ اور ظاہر ہے کہ اُس شخص سے زیادہ کون کذّاب ہو سکتا ہے جو قیامت کے دن جب عدالت کے تخت پر خدا بیٹھے گا اُس کے سامنے جھوٹ بولے گا۔ کیا اِس سے بدتر کوئی اور جھوٹ ہوگا کہ وہ شخص جو قیامت سے دوبارہ پہلے دنیا میں آئے گا۔ اور چالیس برس دنیا میں رہے گا اور نصاریٰ کے ساتھ لڑائیاں کرے گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا۔ اور تمام نصاریٰ کو مسلمان کر دے گا۔ وہی قیامت کو ان تمام واقعات سے انکار کر کے کہے گا کہ مجھے خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا۔ اور اس طرح پر خدا کے سامنے جھوٹ بولے گا اور ظاہر کرے گا کہ مجھے اس وقت سے نصارٰی کی حالت اور اُن کے مذہب کی کچھ بھی خبر نہیں جب سے تُو نے مجھے وفات دے دی۔ دیکھو یہ کیسا گندہ جھوٹ ہے اور پھر خدا کے سامنے اس طور سے حضرت مسیح کذّاب ٹھہرتے ہیں یا نہیں۔ قرآن شریف کھولو اَور آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کو آخر تک پڑھ جاؤ اَور پھر کہو کہ کیا تم نے عیسٰی علیہ السلام کو کذّاب قرار دیا یا نہیں۔ مگر اس پر کیا افسوس کریں کیونکہ آپ لوگوں کے نزدیک تو خدا بھی کاذب ہے خدا تعالیٰ نے