منظور ہو تو پرائیویٹ خطوط کے ذریعہ سے اس کا تصفیہ کرنا ہوگا اور پھر ایسے اشتہار مباہلہ پر کم سے کم پچاس معزز آدمیوں کے دستخط ثبت ہونے چاہئیں اور کم سے کم اس مضمون کا سات سو اشتہار ملک میں شائع ہونا چاہئے اور بیس اشتہار بذریعہ رجسٹری مجھے بھی بھیج دیں۔
مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ مَیں اُنہیں مباہلہ کے لئے چیلنج کروں یا اُن کے بالمقابل مباہلہ کروں۔ اُن کا اپنا مباہلہ جس کے لئے اُنہوں نے مستعدی ظاہر کی ہے میری صداقت کے لئے کافی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ کے زمانہ سے جس کی تالیف پر تخمیناً تئیس۲۳ سال گزر چکے ہیں میرے لئے یہ نشان قائم کر رکھا ہے۔ مَیں اقرار کرتا ہوں کہ اگر مَیں اِس مقابلہ میں مغلوب رہا تو میری جماعت کو چاہئے جو ایک لاکھ سے بھی اب زیادہ ہے کہ سب مجھ سے بیزار ہو کر الگ ہوجائیں کیونکہ جب خدا نے مجھے جھوٹا قرار دے کر ہلاک کیا تو مَیں جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشوائی اور امامت کو نہیں چاہتا بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہوں گااور ہر ایک کے لئے جائے عار وننگ۔
اور جو شخص ایسے چیلنج سے فتنہ کو فرو کرے گا بشرطیکہ وہ صادق نکلے گا صفحہ روزگار میں بڑی عزت کے ساتھ اس کا نام منقوش رہے گا۔ اور جو شخص دجّال بے ایمان مفتری ہوگا اُس کی ہلاکت سے مقولہ مشہورہ کی رُو سے کہ’’ خس کم جہاں پاک‘‘ دنیا کو راحت حاصل ہوگی اِس سے زیادہ مَیں کیا لکھ سکتا ہوں اور اگر کوئی ضروری امر مجھ سے رہ گیا ہے جس کو انصاف چاہتا ہے تو مجھے اطلاع دی جائے مَیں خوشی سے اس کو قبول کروں گا بشرطیکہ بیہودہ نہ ہو اور حیلہ و بہانہ کی اُس سے بدبو نہ آوے اور تقویٰ کی بناپر ہو نہ دنیاداروں کی چالبازی کے رنگ میں۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مَیں چاہتا ہوں کہ کسی طرح حق کھل جاوے۔ اگرچہ مَیں خدا کے نشانوں کو ایسا دیکھ رہا ہوں جیسا کہ کوئی آفتاب کو دیکھتا ہے۔ اور مَیں خدا کی اس وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر۔ مگر مَیں ہر ایک پہلو سے منکر پر اتمام حجت چاہتا ہوں۔ یا الٰہی تُو جو ہمارے کاروبار کو دیکھ رہا ہے اور ہمارے دلوں پر تیری نظر ہے اور تیری عمیق نگاہوں سے ہمارے اسرار پوشیدہ نہیں تو ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کردے اور وہ جو تیری نظر میں صادق ہے اُس کو ضائع مت کر کہ صادق کے ضائع ہونے سے