میں کسی نبی کو باقی نہ چھوڑا۔ پس آخر وہی زبان کی چُھری متمثل ہو کر اُس پر پڑی اور یہ عظیم الشان نشان تھا اور زمین پر یہ بڑا گناہ کیا گیا کہ ایسی چمکدار پیشگوئیوں سے دنیا کے لوگوں نے انکار کر دیا۔ پس اگر مولوی ثناء اللہ صاحب ایسے چیلنج کے لئے مستعد ہوں تو صرف تحریری خط کافی نہ ہوگا بلکہ اُن کو چاہئے کہ ایک چھپا ہوا اشتہار اس مضمون کا شائع کریں* کہ اس شخص کو (اور اِس جگہ میرا نام بتصریح لکھیں) مَیں کذّاب اور دجّال اور کافر سمجھتا ہوں اور جو کچھ یہ شخص مسیح موعود ہونے اور صاحب الہام اور وحی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس دعویٰ کا مَیں جھوٹا ہونا یقین رکھتا ہوں اور اے خدا مَیں تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ اگر یہ میرا عقیدہ صحیح نہیں ہے اور اگر یہ شخص فی الواقع مسیح موعود ہے اور فی الواقع عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں تو مجھے اِس شخص کی موت سے پہلے موت دے۔ اور اگر مَیں اِس عقیدہ میں صادق ہوں اور یہ شخص درحقیقت دجّال بے ایمان کافر مُرتد ہے اور حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہیں جو کسی نامعلوم وقت میں پھر آئیں گے تو اِس شخص کو ہلاک کر۔ تافتنہ اور تفرقہ دُور ہو۔ اور اِسلام کو ایک دجّال اور مغوی اور مضل سے ضرر نہ پہنچے۔ آمین ثم آمین پہلے اِس سے اِسی قسم کا مبا ہلہ کتاب فتح رحمانی کے صفحہ ۲۷ میں مولوی غلام دستگیر قصوری بھی کر چکے ہیں اور اس کے بعد تھوڑے دنوں میں ہی میری زندگی میں ہی قبر میں داخل ہوگئے اور میری سچائی کو اپنے مرنے سے ثابت کر گئے مگر مولوی ثناء اللہ اگر چاہیں تو بذاتِ خود آزما لیں ان کو غلام دستگیر سے کیا کام کیونکہ وہ خود ہی اِس کے لئے مستعدی بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ چیلنج جو درحقیقت ایک مباہلہ کا مضمون ہے اس کو لفظ بلفظ جو نمونہ مذکورہ کے مطابق ہو لکھنا ہو گاؔ جو اُوپر مَیں نے لکھ دیا ہے ایک لفظ کم یا زیادہ نہ کرنا ہوگا اور اگر کوئی خاص تبدیلی * یہ بھی لکھ دیں کہ اِس مقابلہ کے لئے مَیں پیش دستی کرتا ہوں اور میری طرف سے باصرار تمام یہ چیلنج ہے ورنہ صرف بیہودہ اور گول بیان پر توجہ نہ ہوگی۔ منہ