یہ خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہے اور وہ اس اُمّت پر اِس تفرقہ کے زمانہ میں بہت ہی احسان کریں گے کہ مردِ میدان بن کر ان دونوں ذریعوں سے حق و باطل کا فیصلہ کرلیں گے۔ یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔ اگر ایک کذّاب دنیا سے کوچ کر جائے اور باقی لوگوں کو ہدایت ہو جائے تو ایسے مقابلہ والا نبی کا اجر پائے گا۔ لیکن ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔ ہاں مولوی ثناء اللہ صاحب اور دوسرے مخالفوں کو منع نہیں کہ ایسے چیلنج سے ہمیں جواب دینے کے لئے مجبور کریں خواہ وہ مولوی ثناء اللہ ہوں یا اور کوئی ایسا مولوی ہو جو مشاہیر میں سے اور اپنی جماعت میں عزّت رکھتا ہو جس کے بارے میں کم سے کم پچاس معزز آدمی اس کے اشتہار پر تصدیقی شہادت ثبت کردیں۔ اور چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تحریر کے رُو سے ایسے چیلنج کے لئے طیار بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ پس ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں بلکہ ہماری طرف سے اُن کو اجازت ہے کیونکہ اُن کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے۔ مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کارروائی حکّام کے لئے تشوؔ یش کاموجب نہ ٹھہرے۔ اور ہم یہ بھی دُعاکرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے اور یہی مسلک فریق ثانی کو اختیار کرنا ہوگا۔ اور یاد رہے کہ ہماری قتل کی پیشگوئی ایک خاص پیشگوئی تھی۔ جو لیکھرام کے متعلق تھی۔ اس میں خدا نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ قتل کے ذریعہ سے مرے گا اور ایسا ہی شائع کیا گیا۔ اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ اُس کے قتل کئے جانے کا بھید یہ تھا کہ اُس نے سخت زبان درازی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام نبیوں کی نسبت اختیار کی۔ اور خدا نے دیکھا کہ اُس کی زبان درازی انتہا تک پہنچ گئی ہے اور اُس نے گالیاں دینے