حضرت عیسیٰ کے سب سے بزرگ تر حواری کی شہادت ہے یہ وہ حواری ہے کہ اپنی تحریر میں جو برآمد ہوئی ہے خود اس شہادت کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ مَیں ابن مریم کا خادم ہوں اور اب مَیں نوے۹۰ سال کی عمر میں یہ خط لکھتا ہوں جبکہ مریم کے بیٹے کو مَرے ہوئے تین سال گزرچکے ہیں لیکن تاریخ سے یہ امر ثابت شدہ ہے اور بڑے بڑے مسیحی علماء اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ پطرس اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش قریب قریب وقت میں تھی اور واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسیٰ کی عمر قریباً 3سال اور حضرت پطرس کی عمر اُس وقت تیس چالیس سال کے درمیان تھی (دیکھو کتاب سمتھس ڈکشنری جلد ۳ صفحہ ۲۴۴۶ و موٹی ٹیولس نیو ٹسٹیمنٹ ہسٹری و دیگر کتب تاریخ) اور اس خط کے متعلق اکابر علماء مذہب عیسوی نے بہت تحقیقات کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ صحیح ہے اور اس کیلئے بڑی خوشی کا اظہار کیا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی عزت سے یہ تحریر دیکھی گئی ہے کہ ایک رقم کثیر اس کے عوض میں وارثان اُس مقدس راہب کو دی گئی ہے جس کے کتب خانہ سے بعد وفات یہ کاغذ برآمد ہوا اور ہمارے نزدیک اس کاغذکی صحت پر ایک اور قوی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے کتب خانہ سے یہ کاغذ نکلا ہے جو رومن کیتھولک عقیدہ رکھتا تھا اور نہ صرف حضرت عیسیٰ کی خدائی کا قائل تھا بلکہ حضرت مریم کی خدائی کا بھی قائل تھا یہ کاغذات اُس نے محض ایک پُرانے تبرکات میں رکھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ پُرانی عبرانی تھی اور طرز تحریر بھی پُرانی تھی اس لئے وہ اس کے مضمون سے محض نا آشنا تھا۔ یہ ایک نشان ہے ماسوا اس نئی شہادت کے جو حضرت پطرس کے خط میں سے نکلی ہے۔ متقدمین میں بھی عیسائیوں کے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر سے ایک موت کی سی سخت بیہوشی میں اُتارے گئے تھے اور ایک غار کے اندر تین دن کے علاج معالجہ سے تندرست ہو کر کسی اور طرف چلے گئے جہاں مدّت تک زندہ رہے ان عقائد کا ذکر انگریزی کتابوں میں مفصل درج ہے جن میں سے کتاب نیو لائف آف جیزس مصنفہ سٹراس اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچن بیلیف اور کتاب سوپر نیچرل ریلیجن کی بعض عبارتیں ہم نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں درج کی ہیں۔
المؤلف میرزا غلام احمد قادیانی ۔ ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء