کوئی صورت ادائے قرضہ کی نظر نہ آتی تھی۔ جب عیسائی کہا کرتے تھے کہ ربّنا یسوع مسیح آسمان پر زندہ مع جسم چڑھ گیا بڑی طاقت دکھلائی خدا جو تھا مگر تمہارا نبی تو ہجرت کرنے کے بعد مدینہ تک بھی پرواز کر کے نہ جا سکا غارثور میں ہی تین دن تک چھپا رہا آخر بڑی مشکل سے مدینہ تک پہنچااور پھر بھی عمر نے وفا نہ کی دس برس کے بعد فوت ہوگیا اَور اب وہ قبر میں اور زیرِ زمین ہے مگر یسوع مسیح زندہ آسمان پر ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہی دوبارہ آسمان سے اُتر کر دنیا کا انصاف کرے گا۔ ہر ایک جو اس کو خدا نہیں جانتا وہ پکڑا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس کا جواب مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں آتا نہایت شرمندہ اور ذلیل ہوتے تھے اب یسوع مسیح کی خوب خدائی ظاہر ہوئی۔ آسمان پر چڑھنے کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اوّل تو ہزار نسخہ سے زیادہ ایسی طبی کتابیں جن کو پُرانے زمانہ میں رومیوںیونانیوں مجوسیوں عیسائیوں اور سب سے بعد مسلمانوں نے بھی ان کا ترجمہ کیا تھا پیدا ہوگئیں جن میں ایک نسخہ مرہم عیسیٰ کا لکھا ہے اوران کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے یعنی اُن کے صلیبی زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ ازاں بعد کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی پیدا ہوگئی۔ پھر اس کے بعد عربی اور فارسی میں پُرانی کتابیں پیدا ہوگئیں جو بعض ان میں سے ہزار برس کی تصنیف ہیں اورؔ حضرت عیسیٰ کی وفات کی گواہی دیتی اور قبر اُن کی کشمیر میں بتلاتی ہیں اور پھر سب کے بعد جو آج ہمیں خبر ملی یہ تو ایک ایسی خبر ہے کہ گویا آج اس نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن چڑھا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حال میں بمقام یروشلم پطرس حواری کا دستخطی ایک کاغذ پُرانی عبرانی میں لکھا ہوا دستیاب ہوا ہے جس کو کتاب کشتی نوح کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناًپچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہوگئے تھے اور وہ کاغذ ایک عیسائی کمپنی نے اڑھائی لاکھ روپیہ دے کر خرید لیا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریر ہے اور ظاہر ہے کہ اِس قدر ثبوتوں کے جمع ہونے کے بعد جو زبردست شہادتیں ہیں پھر اِس بیہودہ اعتقاد سے جو عیسیٰ زندہ ہے باز نہ آنا ایک دیوانگی ہے امور محسوسہ مشہودہ سے انکار نہیں ہو سکتا سو مسلمانوں تمہیں مبارک ہو آج تمہارے لئے عید کا دِن ہے اُن پہلے جھوٹے عقائد کو دفع کرو اور اب قرآن کے مطابق اپنا عقیدہ بنالو۔ مکرریہ کہ یہ آخری شہادت