کے قریب تو طاعون کے ذریعہ سے ہی میری جماعت میں داخل ہوئے اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ تھوڑے دنوں میں میری جماعت سے زمین بھر جائے گی۔ اے حافظ صاحب !کیا آپ وہی حافظ صاحب نہیں جنہوں نے مجھ کو بلاواسطہ دیگرے کہا تھا کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کہتے تھے کہ قادیان پر ایک نور نازل ہوا جس سے میری اولاد محروم رہ گئی افسوس آپ نے قبر میں عبداللہ صاحب کو دُکھ دیا کیا ان کے قول کے مخالف یہ طریق خلاف آپ کو لازم تھا۔ پھر کیا میاں محمد یعقوب آپ کے حقیقی بھائی نہیں ہیں۔ اُن سے بھی تو ذرا پوچھ لیا ہوتا وہ تو قریباً د س۱۰ برس سے دوہائی دے رہے ہیں کہ ان کو بھی مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے قادیان کا ہی حوالہ دیا تھا کہ نور قادیان میں ہی نازل ہوگا اور وہ غلام احمد ہے اور انہوں نے خبر دی ہے کہ وہ اب تک اِس گواہی پر قائم ہیں اور اُن کا خط موجود۔ پھر آپ حافظ کہلا کر حقیقی حافظ پر توکّل نہیں رکھتے قوم کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں۔ مَیں سوچ میں ہوں کہ عبداللہ صاحب کے یہ کیسے مکاشفات تھے۔ جو اُن کے ساتھ ہی خاک میں مل گئے۔ آپ جیسے اُن کے بڑے خلیفہ نے بھی اُن کا قدر نہ کیا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہدیٰ۔
المؤلّف مرزا غلام احمد قادیانی ۔ ۴؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء
تماؔ م مُسلمانوں اور تمام سچائی کے بھوکوں
اور
پیاسوں کے لئے ایک بڑی خوشخبری
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی خارق عادت زندگی اور خلاف نصوص قرآنیہ مع جسم آسمان پر چلے جانا اور باوجود وفات یافتہ نہ ہونے کے پھر وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں جو ایک رنگ سے بہشت میں داخل ہو چکے داخل ہو جانا یہ تمام ایسی باتیں تھیں کہ درحقیقت سچے مذہب کے لئے ایک داغ تھا اور نیز مدت دراز سے مغربی مخلوق پرستوں کا مو ّ حدین اہلِ اسلام کے ذمہ ایک قرضہ چلا آتاتھا اور نادان مسلمانوں نے بھی اس قرضہ کا اقرار کر کے اپنے ذمہ ایک بڑی سودی رقم عیسائیوں کی بڑھا دی تھی جس کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس ملک ہند میں ارتداد کا جامہ پہن کر عیسائیوں کے ہاتھ میں گرو پڑ گئے تھے اور