کہ ایسے لوگ کن قبروں میں دفن کئے گئے کیا مسلمانوں کی قبروں میں یا علیحدہ اور اسلامی سلطنت* میں قتل ہوئے یا امن سے عمر گزاری۔ حافظؔ صاحب سے تو یہ ثبوت طلب کیا جائے اور پھر میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلبِ ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں پھر اگر سنّت انبیاء علیہم السلام کے مطابق مَیں نے پورا ثبوت نہ دیا تو مَیں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں لیکن اس قدر محنت اُٹھانا بڑے باخدا کا کام ہے ندوہ کو کیا ضرورت جو اس قدر سردرد اُٹھاوے اور کونسا فکر آخرت ہے تا خدا سے ڈرے مگر ندوہ کے علماء ایک ایک کر کے یاد رکھیں کہ وہ ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتے موتیں پکاررہی ہیں اور جس لہو و لعب میں وہ مشغول ہورہے ہیں جس کا نام وہ دین رکھتے ہیں خدا آسمان پر دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ وہ دین نہیں ہے وہ ایک چھلکے پر راضی ہیں اور مغز سے بے خبر ہیں یہ اسلام کی خیر خواہی نہیں بلکہ بدخواہی ہے۔ کاش اگر ان کی آنکھیں ہوتیں تو وہ سمجھتے کہ دنیا میں بڑا گناہ کیا گیا کہ خدا کے مسیح کو ردّ کر دیا گیا اِس بات کا ہر ایک کو مَرنے کے بعد پتہ لگے گا اور حافظ صاحب مجھے ڈراتے ہیں کہ تم اگر امرتسر میں نہ آئے تو اپنے دعوے میں تمام دنیا میں کاذب سمجھے جاؤگے۔ اے حافظ صاحب! دنیا کس کی ہے خدا کی یا آپ کی۔ آپ لوگ تو اب بھی مجھے کاذب ہی سمجھ رہے ہیں۔ اِس کے بعد اور کیا سمجھیں گے۔ آپ کی دنیا کی ہمیں کیا پرواہ۔ ہر ایک نفس میرے خدا کے قدموں کے نیچے ہے۔ اے بد اندیش حافظ سُن۔ تجھے کیا خبر کہ کس قدر خدا کی تائید میری ترقی کررہی ہے۔ حاسد اگر مر بھی جائے تو یہ ترقی رُک نہیں سکتی کیونکہ خدا کے ہاتھ سے اور خدا کے وعدہ کے موافق ہے نہ انسان کے ہاتھ سے۔ خدا نے میری جماعت سے پنجاب اور ہندوستان کے شہروں کو بھردیا۔ چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے میری بیعت کی۔ کیا ابھی آپ نہیں سمجھتے کہ آسمان پر کس کی تائید ہورہی ہے۔ میرے خیال میں تو دس ہزار
* اسلام کی سلطنت میں ثبوت دینے میں یہ کافی نہیں کہ ایسا شخص جو مدعی نبوت تھا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور نہ اس کا جنازہ پڑھا گیا بلکہ کافی ثبوت کے لئے یہ ثابت کرنابھی ہوگا کہ وہ قتل بھی کیا گیا کیونکہ وہ مُرتد تھا لیکن حافظ صاحب اگر یہ ثبوت دیدیں تو گویا جس امر سے بھاگتے تھے اُسی کو قبول کرلیں گے۔ منہ