قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا اور کسی عذاب سے ہلاک نہ ہوا تو صرف اسی قدر سے کوئی کاذب مدعی نبوت میرے برابر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ میری تائید میں معجزات بھی ہیں اور باایں ہمہ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حافظ صاحب کوشش کرتے کرتے دنیا سے رخصت بھی ہو جائیں یا کسی اور ابواسحاق محمد دین سے ایک اور ہزار رسالہ قطع الوتین کا تصنیف بھی کرالیں اور گو ایسا شخص اپنے لئے خود کشی پسند کر کے قطع الوتین ہی کر لے مگر پھر بھی حافظ صاحب کے نصیب نہ ہوگا کہ جس طرح مَیں تقریباً تئیس۲۳ برس سے اپنی وحی برابر آج کے دن تک شائع کرتا رہا ہوں اسی طرح اُس کی مسلسل تئیس برس کی وحی کامجموعہ پیش کر سکیں جس پر اُس نے میری طرح قسم کھا کر بیان کیا ہو کہ یہ وحی یقینی اورقطعی طور پر خدا کا کلام ہے اگر مَیں نے جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کی *** ہو جیسا کہ مَیں اپنی کتابوں میں یہی الفاظ اپنی نسبت لکھ چکا ہوں۔ یہ تو ایک ادنیٰ درجہ کی بات ہے کہ جھوٹوں کے ساتھ میرا موازنہ کیا جائے مگر مَیں تو اِس سے بڑھ کر اپنا ثبوت رکھتا ہوں کہ ہزارہا معجزات اب تک ظاہر ہو چکے ہیں جن کے ہزار ہا گواہ ہیں اور قرآن شریف میرا مصدّق ہے۔ کیا یہ میرا حق نہیں ہے کہ مقابلہ کے وقت ان ثبوتوں کو کسی کاذب پیش کردہ کی نسبت آپ سے طلب کروں۔ بھلا بتلائیں کہ میرے بغیر کس کے لئے بموجب حدیث دار قطنی کے کسوف خسوف ہوا کس کے لئے بموجب احادیث صحیحہ کے طاعون پڑی۔ کس کے لئے ستارہ ذوالسنین نکلا۔ کس کے لئے لیکھرام وغیرہ کے نشان ظاہر ہوئے۔ لیکن ندوۃ العلماء اگر اپنے تئیں اسم بامسمّٰی کرنا چاہے تو اب اس کی اپنی ذاتی ہدایت کے لئے خواہ حافظ صاحب اس سے کچھ حصہ لیں یا نہ لیں اس قدر بھی کافی ہو سکتا ہے کہ حافظ صاحب سے تو ایسے مدعیان نبوت کا حلفًا ثبوت مانگے جن کی وحی کاذب کا قرآن شریف کی طرح تئیس۲۳ برس تک برابر سلسلہ جاری رہا اور اُن سے ثبوت مانگے کہ کہاں انہوں نے قسم کے ساتھ بیان کیا کہ ہم درحقیقت نبی ہیں اور ہماری وحی قرآن کی طرح قطعی یقینی ہے اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ کیا وہ لوگ اس زمانہ کے مولویوں کے فتوے سے کافر ٹھہرائے گئے تھے یا نہیں اور اگر نہیں ٹھہرائے گئے تو اِس کی کیا وجہ۔ کیا ایسے مولوی فاسق فاجر تھے یا نہیں جنہوں نے دین میں ایسی لاپروائی ظاہر کی اور یہ بھی ثبوت مانگے