بھیں نے اپنی تحریر میں *** اللّہ علی الکاذبین کا لفظ میرے مقابل پر بولا وہ کتاب پوری نہ کرنے پایا کہ سخت عذاب سے مر گیا۔ پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب میں میرے مقابل پر *** اللّٰہ علی الکاذبین کہا وہ معًا جُرم سرقہ میں اِس طرح گرفتار ہوا کہ اُس *نے ساری کتاب محمد حسن مُردہ کی چُرا لی اور کہا کہ مَیں نے بنائی ہے اور جھوٹ بولا اور اس کا نام سیف چشتیائی رکھا اور پھر تیسری مصیبت یہ کہ محمد حسن مُردہ نے جس قدر میری کتاب اعجاز المسیح پر جرح خیال کیا تھا وہ جرح بھی سارا غلط ثابت ہوا اُس نے ابھی نظر ثانی نہیں کی تھی کہ وہ مَر گیا اس نادان نے جو عربی سے بے بہرہ ہے اس تمام جرح کو سچ سمجھ لیا ۔اب بتلاؤ کہ یہ بھی ایک قسم کی موت ہے یا نہیں کہ کتاب کا مسودہ چُرایا اور وہ چوری پکڑی گئی اور پھر گدی نشین ہو کر صریح جھوٹ بولا کہ یہ کتاب مَیں نے بنائی ہے اور پھر جو کچھ چُرایا وہ ایسی غلطیاں تھیں کہ گویاؔ نجاست تھی۔ کیا اِس عذاب سے عذابِ جہنّم زیادہ ہے خ پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرضِ محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے جس کو وہ قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعویٰ ہے) خدا کی ایسی وحی کہتا ہو جس کی صفت میں لاریب فیہ ہے۔ جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیرتوبہ کے مَرا اور مسلمانوں نے اپنے * مہرعلی نے محمد حسن مُردہ کی نکتہ چینی پر بھروسہ کر کے یہ جاہلانہ الزام میرے پر لگایا کہ عرب کی بعض مشہور مثالیں یا فقرے جو مقامات حریری وغیرہ نے بھی نقل کئے ہیں وہ بطور اقتباس میری کتاب میں بھی پائے جاتے ہیں جو دو ۲ تین۳ سطر سے زیادہ نہیں گویا اس نادان کی نظر میں یہ چوری ہوئی۔ سو اس وقت ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی اپنا چہرہ دکھلاتی کہ انّی مھین من اراد اھانتک لہٰذا وہ ایک ساری کی ساری کتاب کا چور ثابت ہوا اور جھوٹ بولا اور غلط نکتہ چینی کی پیروی کی اور متنبہ نہ ہو سکا کہ یہ غلط ہے اس طرح وہ تین سنگین جُرموں میں پکڑا گیا۔ کیا یہ معجزہ نہیں۔ منہ خ مہر علی کی یہ چوری اور پھر جہالت سے غلطیوں پر بھروسہ کرنا اور نادانی سے ابن مریم کو زندہ قرار دینا وغیرہ امور جو سراسر جہل اور نادانی کے تقاضا سے اس سے صادر ہوئے اس کے بارے میں میری طرف سے ایک زبردست کتاب تالیف ہورہی ہے جس کا نام نزول المسیح ہے جس سے تنبور چشتیائی پاش پاش ہو کر اس میں صرف گردو غبار رہ جائے گی کہ جو مہرعلی کی آنکھوں میں پڑے گی اور اس کی زندگی کو تلخ کردے گی۔ یہ کتاب گیارہ جُز تک چھپ چکی ہے۔ منہ