آنکھیں کھولی جائیں گی اور وہ خود بخود سوچنے لگیں گے کہ یہ کیا بات ہے اور یہ کس قسم کا کاذب ہے جو زیر نہیں ہوتا اور کیوں خدا کی تائیدیں اس کے شامل حال ہیں اور ہمارے شامل حال نہیں ۔ تب خداکا ایک فرشتہ ان کے دلوں پر اترے گا اور ان کو سمجھائے گا کہ کیاتمہاری حدیثوں اور روایتوں کی پیشگوئیاں ضروری الوقوع ہیں جو تمھاری روک کا باعث ہیں اور کیا ان میں سے بعض کی نسبت وضع اور غلطی ممکن اور محل نہیں اور کیا بعض پیشگوئیوں کا استعارات کے رنگ میں پورا ہوناجائز نہیں۔ اور کیایہودیوں کی بد نصیبی اور بے ایمانی کا بجز اس کے کوئی اور بھی باعث تھاکہ وہ منتظر رہے کہ تمام باتیں ظاہری صورت میں ہی پوری ہوں اور ان کے خیالات کے مطابق سب کچھ ہو مگر نہ ہوا ۔ تو پھرجب کہ وہی خدا اب بھی ہے اور وہی اس کی عادت، تو کیوں جائز نہیں کہ وہی ابتلا تمہیں بھی پیش آیا ہو ۔ غرض آخر کار انہی خیالات کی طرف طبعاً انسانوں کے دلوں کا رجوع ہوجائے گا جیساکہ قدیم سے ہوتاآیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ حقیقی دین اور راستبازی کے پھیلانے کے لئے یہ جسمانی لڑائیوں کا زمانہ ہے کیونکہ تلوار سچائی کے جوہروں کو ظاہر نہیں کرسکتی بلکہ ان کو اور بھی چھپاتی اور مشتبہ کرتی ہے جولوگ ایسے خیالات کے خواہشمند ہیں و ہ اسلام کے دوست نہیں ہیں بلکہ دشمن ہیں اور ان کی فطرؔ ت نہایت پست اور سفلی رنگ میں اور ان کی ہمتیں گری ہوئی اور دل منقبض اور دماغ اَبلہ اور طبیعتیں تاریک ہیں کیونکہ وہ مخالفوں کو ایک ایسے اعتراض کاموقعہ دیتے ہیں جو در حقیقت وارد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بقول ان کے اسلام اپنی ترقی کے واسطے جہاد کا محتاج ہے اور یہ اسلام کی ہجو ہے کیونکہ جس مذہب میں یہ قوت ہے کہ وہ اپنی سچائی کو عقلی دلائل سے یا کسی اور قسم کے قابل تمسک شہادتوں سے یا آسمانی نشانوں سے باآسانی ثابت کرسکتا ہے۔ ایسے مذہب کے لئے کچھ ضرورت نہیں کہ جبر سے اور تلوارکی دھمکی سے اپنی سچائی کا اقرار کراوے لیکن اگر کسی مذہب میں یہ ذاتی خاصیّت موجود نہیں اور اپنی کمزوری کا تلوار سے تدارک کرتا ہے تو ایسے مذہب کے