ان کے کسی حصہ کی جسمانی تصویر بھی پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ بیت المقدس کی ہیکل اور مکہ معظمہ کا خانہ کعبہ یہ دونوں تصویریں روحانی تجلیات کی ہیں اسی بنا پر شریعت اسلامی میں یہ سمجھا گیا ہے کہ مسیح موعود منار پر یا منار کے قریب نازل ہو گا ۔ ایک ایسے ملک میں جو دمشق کے شرقی طرف ہے جیسا کہ آدم کو بھی شرقی طرف ہی جگہ دی گئی تھی۔ اس جلالی آمد سے پہلے ظاہری منار کے بھی بنائے جانے میں کچھ حرج نہیں بلکہ حدیثوں میں بطور پیش گوئی اس کا ذکر پایا جاتا ہے کہ وہ مسیح موعود کی جلالی آمد کیلئے ایک نشان ہو گا جو اس آمد سے پہلے بنایا جائے گا۔ یہ مقدر ہے کہ مسیح موعود کا آنا دورنگ میں ہو گا ۔ اول معمولی طور پر جس میں طرح طرح کے ابتلا بھرے ہوئے ہیں ۔طرح طرح کی تکلیفوں کا وقت ہے ۔ جب یہ دن پورے ہوجائیں گے تب جلالی آمدکا وقت آجائے گا اور ضرورہے کہ اؔ س سے پہلے ایک منار تیار ہو جائے جیسا کہ حدیثوں سے پایا جاتا ہے کہ اس حقیقت کے دکھلانے کے لئے ایک ظاہری مناربھی ہوگا اور وہ باطنی منارکی تصویر ہو گا اور قبل اس کے جو وہ جلالی طورپر نازل ہو دنیا اس کو نہیں پہچانتی کیونکہ وہ دنیا میں سے نہیں ہے اور دنیا اس سے محبت نہیں کرتی کیونکہ جس خدا سے وہ آیا ہے اس سے بھی دنیاکومحبت نہیں۔ پس ضرور ہے کہ وہ آمداول میں ستایا جائے اور دکھ دیا جائے اور طر ح طرح کے الزام اس پر لگائے جائیں جیسا کہ اسلامی پیشگوئیوں میں لکھا ہے کہ ابتدامیں مسیح موعود کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نادان لوگوں کے کینے اس کی نسبت بہت بڑھ جائیں گے اور شرارتیں انتہاتک پہنچ جائیں گی ۔ یہاں تک کہ ایک شخص ظالمانہ حملہ اس پرکرکے خیال کرے گا کہ اس نے بڑی نیکی کاکام کیا ہے اور ایک اس کو دکھ دے کر یہ سمجھے گا کہ اس نے اپنے فعل سے خدا کو راضی کردیا ہے ۔اسی طرح ہوتا رہے گا اور ہر ایک قسم کا زلزلہ اس پر آئے گا اور ہر ایک مصیبت کا اس کوسامنا ہوگایہاں تک کہ عادت اللہ اس میں پوری ہوجاوے گی۔ تب اس کی جلالی آمد کا وقت آجائے گا اور مستعد دلوں کی