جھوٹا ہونے کے لئے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں اس کے کاٹنے کے لئے اسی کی تلوار کافی ہے ۔ مگر یہ اعتراض کہ اگر جہاد اب جائز نہیں تواسلام میں اول زمانہ میں کیوں تلوار سے کام لیا گیا۔ یہ معترضین کی اپنی غلطی ہے جو بباعث ناواقفیت پیدا ہوئی ہے ۔ انہیں معلوم نہیں کہ اسلام دین کے پھیلانے کے لئے ہر گز جبر کی اجازت نہیں دیتا ۔ دیکھو کیسی ممانعت قرآن میں موجودہے کہ فرماتا ہے کہ3 ۱؂ یعنی دین میں جبر نہیں کرنا چاہئے ۔پھر کیوں تلوار اٹھائی گئی۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عرب کے وحشی جن میں کوئی تمیز اور تہذیب باقی نہیں رہی تھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہوگئے تھے اور جب ان پر توحید اور اسلامی سچائیوں کی کھلے کھلے دلائل سے حجت پوری کی گئی اوران کے ذہن نشین کیا گیا کہ انسان ہو کر پتھروں کی پوجا کرنا ایک صریح غلطی ہے کہ انسانیت کے بھی بر خلاف ہے تووہ ان معقول باتوں کا کچھ بھی جواب نہ دے سکے اور ان کے لاجواب ہوجانے سے سمجھدار لوگوں کو اسلام کی طرف حرکت پیدا ہوگئی اور بھائی سے بھائی اور باپ سے بیٹا جدا ہوگیاتب انہیں اپنے باطل مذہب کے بچانے کے لئے کوئی تدبیر بجز اس کے خیال میں نہ آئی کہ سخت سخت سزاؤں کے ساتھ لوگوں کو مسلمان ہونے سے روک دیں ۔ چنانچہ مکہ معظمہ میں ابو جہل وغیرہ مکہ کے رئیسوں کی طرف سے یہی عمل درآمد شروع ہو گیا ۔اسلام کے ابتدائی زمانہ کی تاریخ پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ ایسی بے رحمی کی وارداتیں مخالفوں کی طرف سے مکہ میں کس قدر ظہور میں آئیں اور کس قدر بے گناہ ظلم سے مارے گئے مگر لوگ پھر بھی مسلمان ہونے سے باز نہیں آتے تھے کیونکہ ہرایک موٹی عقل کا انسان بھی جانتا تھا کہ بت پرستوں کے مقابل پر کس قدر اسلام معقولیت اور صفائی رکھتاہے ناچاؔ ر جب اس تدبیر سے بھی پوری کامیابی نہ ہوئی تو یہ ٹھہری کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوہی قتل کیاجاوے لیکن خدا تعالیٰ آپ کو بچا کر مدینہ میں لے گیا مگر پھر بھی انہوں نے قتل کے لئے تعاقب کیا اور کسی صورت میں اپنی