عقیدے اور رسمی علم اور رسمی نمازیں اس روشنی کو بحال نہیں کرسکتیں جو گم ہوچکی ہے کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے ؟ہرگز نہیں !کیا ظلمت ، ظلمت کودور کرسکتی ہے ؟کسی طرح ممکن نہیں۔ اب تو ایک جدیدمنارکی ضرورت ہے جو زمین پر تیارہو جو سفلی آبادیوں سے امتیاؔ زکے ساتھ اونچا ہو تا آسمانی روشنی اس پر نازل ہو اور سماوی چراغ اس پر رکھاجاوے اور پھر تمام دنیااس روشنی سے منور ہو جاوے کیونکہ اگر چراغ اونچے مقام پر نہ رکھا جائے تو کیونکر اس کی روشنی دور دور تک پھیل سکے ۔ اب آپ کو یہ سمجھناباقی ہے کہ منار کیا چیز ہے پس یاد رہے کہ منار اس نفس مقدس اور مطہر اور بلند ہمت کا نام ہے جوانسان کامل کو ملتا ہے جو آسمانی نور پانے کا مستحق جیسا کہ منار کے معنے میں یہ مطلب داخل ہے اور منارکی بلندی سے مراد اس انسان کی بلند ہمتی ہے اور منارکی مضبوطی سے مراد اس انسان کی استقامت ہے جو طرح طرح کے امتحانوں کے وقت وہ دکھلاتا ہے اور اس کی سفیدی و بریّت ہے جو انجام کارظاہر ہو جاتی ہے ۔ اور جب یہ سب کچھ ہو لیتا ہے یعنی جب اس کی علو ہمت اور کمال استقامت اور کمال صبراور استقلال اور دلائل کے ساتھ اس کی بریّت ایک چمکتے ہوئے منار کی طرح کھل جاتی ہے تب اس کی جلالی آمدکا وقت آجاتا ہے اور پہلی آمدجو ابتلاؤں کے ساتھ ہے اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے ۔ تب وہ روحانیت خدائی جلال سے رنگین ہو کر اس وجود پر اترتی ہے جو منارکی صورت پر کھڑا ہے تب باذنہٖ تعالیٰ خدائی تاثیریں اس میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہ سب کچھ آمد ثانی میں ہوتاہے ۔اور مسیح موعود کی خاص طور کی آمد اسی حقیقت کی کامل تصویرہے اور مسلمانوں میں جویہ روایتیں ہیں کہ مسیح موعود منار کے پاس اترے گا ۔ اترنے سے مراد ایک جلالی طورکی آمد ہے جو خدائی رنگ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ پہلے اس سے زمین پر موجود نہ تھا مگر ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے ۔ جب تک کہ وہ وقت نہ آوے جو خدا نے مقررکر دیا ہے ۔ خدا کی عادت میں یہ بھی داخل ہے کہ روحانی امور کو ذہن نشین کرانے کیلئے