سے یہودیوں اور مسلمانوں کو پیشگوئیوں کے وقتوں کی شناخت کرنے کے لئے یہی حساب سکھایا گیا ہے اور سورج کے دنوں کے رو سے حساب کرنا انسانوں کی بدعت ہے جو پاک نوشتوں کے منشاء کے مخالف ہے۔ غرض اس حساب کے رو سے شیطان کی مہلت کے آخری دن یہی ہیں جن میں ہم ہیں بلکہ یوں سمجھو کہ گزر بھی چکے کیونکہ ہجری صدی جس کے سر پر ہزار برس شیطان کے چھوٹنے کا پورا ہوگیا ۔ اس کو انیس برس گزر چکے اور شیطان نہیں چاہتا کہ اس سے آزادی اور حکومت چھین لی جاوے۔ ناچار دونوں کششوں کی لڑائی ہوگی جو ابتدا سے مقدر تھی اور ممکن نہیں ہے کہ خداکا کلام غلط ہو۔ اور ان دنوں پرایک دوسری شہادت یہ بھی ہے کہ دنیا کی ابتدا سے یعنی آدم کے ظہور سے آج تک چھٹا ہزار بھی گزر گیاجس میں آدم ثانی پیدا ہوناچاہئے تھا۔ کیونکہ چھٹا دن آدم کی پیدائش کا دن ہے اور خدا کی پاک کتابوں کے رو سے ایک ہزار برس ایسا ہے جیسا کہ ایک دن سو یہ امر خدا کے پاک وعدوں کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ آدم پیدا ہوگیا۔ گو وہ ابھی کامل طور پر شناخت نہیں کیاگیا اور ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اس آدم کامقام جو خدا کے ہاتھ سے تجویز کیا گیا وہ شرقی ہے نہ غربی کیونکہ توریت باب ۲۔ آیت ۸*سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آدم کو ایک باغ میں شرقی طرف جگہ دی گئی تھی پس ضرور ہے کہ یہ آدم بھی مشرقی ملک میں ہی ظاہر ہو تا اول اور آخرکی مماثلت مکانی قائم رہے۔اور اس اعتراف سے جیسا کہ مسلمانوں کو چارہ نہیں ویساہی عیسائیوں کوبھی کوئی گریز کی جگہ نہیں بشرطیکہ دہریت کی رگ مانع نہ ہو ۔ پس اصل حقیقت کے سمجھنے کیلئے کچھ مشکلات باقی نہیں رہیں اور یہ مسئلہ نہایت صاف ہے کہ یہ زمانہ نوراور ظلمت کی لڑائی کا زمانہ ہے اور ظلمت نے انتہا تک اپناکام کرلیا ہے اور یہ امیدیں نہیں کی جاسکتیں کہ بغیر نزول آسمانی نور کے اس ظلمت پر کوئی فتحیاب ہو سکے اور اس بات میں ذرابھی شبہ نہیں ہے کہ ظلمت اپنے پورے زوروں میں ہے اور راستبازی کا نیم مردہ چراغ فنا ہونے کے قریب ہے اور رسمی