پس یہ امر معقول ہے کہ ان کششوں کے انتہائی درجہ کے زوروں کے وقت جو دنیا کا آخری زمانہ ہے ان دونوں میں لڑائی ہونا چاہئے تھی کیونکہ اقبال کا تقاضا ہے کہ فریق مخالف کو فنا کرے ۔ پس جس موقعہ اور محل میں فریقین برابر درجہ کا اقبال و شوکت رکھیں گے ،ایسے دو فریق بغیر لڑائی کے نہیں رہ سکتے کیونکہ ہرایک خدا کے نبیوں کی کتابوں میں پیشگوئی کے طور پربیان کی گئی ہے ۔ایسا ہی عقل بھی اس کو ضروری سمجھتی ہے ۔ کیونکہ جب دو مخالف اور پُرزور کششوں میں باہم ٹکر لگے تو ضروری ہے کہ ایک دوسری کو فنا کردیوے یادونوں فنا ہوجاویں اور اس لڑائی کے بارہ میں نبیوں کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام سے پورا ہزار برس گزرا جس میں نبیوں کی پیشگوئی کے مطابق شیطان قید کیا گیا تھا تو سفلی کشش نے زمین پر اپنا رنگ جمانا شروع کیا ۔ یہ وہی زمانہ تھا جبکہ اسلام اپنے پاک اصولوں کے لحاظ سے تنزل کی حالت کی طرف مائل ہوگیا تھا اور اس کی روحانی ترقیاں رک گئی تھیں اور اس کی ظاہری فتوحات کا بھی خاتمہ ہوچکا تھا اور وہ شیطان کے قید ہونے کے دنوں میں پیدا ہو ا۔اور ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا جیسا کہ تمام نبیوں نے یوحنّا فقیہ تک گواہی دی ہے۔ اور شیطان کے چھوٹنے پر یعنی ۱۰۰۰ عیسوی کے بعد اس کا تنزل شروع ہوگیا اوروہ آگے بڑھنے سے رک گیاتب سے شیطانی کارروائیاں رنگا رنگ کے پیراؤں میں شروع ہوئیں اور زمین پر یہ پودا بڑھتا گیا ۔ اور اس کی شاخیں کچھ تو مشرق کی طرف پھیل گئیں اور کچھ مغرب کی انتہائی آبادیوں تک جانکلیں اور کچھ جنوب کی طرف اور کچھ شمال کی طرف متوجہ ہوئیں جیسا کہ شیطان کے قید رکھنے کا زمانہ ہزار برس تھا جس پر واقعاؔ ت خارجیہ نے گواہی دی ہے ایسا ہی نبیوں کی پیشین گوئیوں کے رو سے شیطان کے چھوٹنے کا زمانہ بھی ہزار برس ہی تھاجو ہجرت کی چودھویں صدی کے سر پر پورا ہوجاتا ہے۔ مگر یہ ہزار برس خدائی حساب کے رو سے ہے یعنی چاند کے حساب سے اور خدا کی طرف