ہے جس پر اس دنیا کا خاتمہ ہو گا ۔ اور بعض نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس لڑائی کو ایک جسمانی لڑائی سمجھ لیا ہے جو تلوار اور بندوق سے ہوتی ہیں ۔ مگر وہ لوگ غلطی پر ہیں اور اپنی سفلی عقل اور حماقت سے روحانی جنگ کو جسمانی جنگ کی طرف کھینچ کرلے گئے ہیں۔ غرض ان دنوں زمین کی تاریکی اور آسمان کے نور کا ایک انتہائی جنگ ہے ۔ آدم سے لے کر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک تمام خدا کے مقدس نبی اس جنگ کی طرف اشارات کرتے آئے ہیں اور اس جنگ کے سپہ سالاروں کے دو مختلف نام رکھے گئے ہیں ایک سچائیوں کو چھپانے والااور دوسرا سچائیوں کو ظاہر کرنے والایا دوسرے لفظوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان سے نورانی فرشتوں کے ساتھ اترنے والا اور میکائیل کا مظہر اور ایک زمین سے تمام شیطانی تاریکیوں کو لے کر ظاہر ہونے والا اور ابلیس کا مظہر ہو گا ۔ اب جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ زمینی لشکر خوب تیار ہے اور وہ خوب مسلح ہو کر کھڑے ہیں اور اپناکام کررہے ہیں بلکہ بہت کچھ کر بھی چکے ہیں تو طبعاً یہ نیک خواہش پیدا ہوتی ہے اور فراست صحیحہ گواہی دیتی ہے کہ آسمانی گورنمنٹ بھی ان تیاریوں سے غافل نہیں ہے ۔ اسؔ گورنمنٹ کی کچھ ایسی عادت ہے کہ وہ ظاہری شوروغوغاکو پسند نہیں کرتی اور وہ بہت کچھ کارروائیاں اندر ہی اندر ہی کرلیتی ہے اورلوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی تب آسمان پر ایک نشان ظاہرہوتا ہے اور زمین پرایک منار روشن اور نہایت سپید اور وہ آسمانی روشنی منار پر گرتی ہے اور پھر وہ منار تمام دنیا کو روشن کرتاہے ۔ یہ مختصر فقرہ تشریح کا محتاج ہے اور تشریح یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا روحانی سلسلہ اگرچہ جسمانی سلسلے کے بالکل مطابق ہے لیکن بعض امور میں اس میں وہ خواص عجیبہ پائے جاتے ہیں کہ جو جسمانی سلسلہ میں کھلے کھلے طور سے نظرآ نہیں سکتے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ جب سفلی کشش اپناکام کرنا شروع کرتی ہے تو گو وہ کشش آسمانی کشش سے بالکل مخالف ہے تاہم آسمانی کشش اس کشش کے طبعی تقاضا سے پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے