ناامیدی ہے جب تک کہ ایک ایسی مخالف اور زبردست کشش آسمان سے پیدا نہ ہو جو مخالف پہلوکے یقین کو بڑھا دے یعنی جیسا کہ ایک یقینی نظر سے نفسانی بدعملیوں میں فوائد اور لذّات محسوس ہورہے ہیں ان سے بڑھ کر رحمانی حکموں میں فوائد دکھائی دیں اوریقین کی نظر سے بدی کا ارتکاب مرنے کے برابر مشہودہو جو دل کو پکڑلے اور یہ یقین کی روشنی صرف آسمان سے اس آفتاب کے ذریعہ سے آتی ہے جو امام الوقت ہوتا ہے ۔ اس لئے اس امام کا شناخت نہ کرنا جاہلیت کی موت مرنا ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں اس آفتاب سے روشنیؔ حاصل کرنا نہیں چاہتا وہ خدا کے مستمرہ قانون کو توڑنا چاہتا ہے ۔کیا ممکن ہے کہ آفتاب کے بغیر آنکھیں دیکھ سکیں ؟ گو کہ آنکھوں میں بھی ایک نو رہے مگر آفتا ب کا محتاج ۔ آفتاب حقیقی نور ہے جو آسمان سے آتا اور زمین کو روشن کرتا ہے اور آنکھیں بغیراس کے اندھی ہیں۔اور جس شخص کو اس آسمانی نور کے ذریعہ سے یقین پید اہوگااس کو نیکی کی طرف ایک کشش پیدا ہوگی اوراس آسمانی کشش اور زمینی کشش میں لڑائی ہونا ایک طبعی امر ہے کیونکہ اس صورت میں ایک کشش نیکی کی طرف کھینچے گی اور ایک بدی کی طرف ۔ اورایک مشرق کی طرف دھکا دے گی اور ایک مغرب کی طرف ۔ اور دونوں کا باہم ٹکرانا اس وقت سخت خطر ناک ہوگا جب کہ دونوں میں انتہائی درجہ کی کششیں موجود ہوں گی جن کا دنیا کی انتہائی ترقیات پر موجود نہ ہونا ایک لازمی امر ہے ۔ پس جب تم دیکھو کہ زمین نے انتہائی درجہ پر ترقی کرلی ہے تو سمجھ لو کہ یہی دن آسمانی ترقی کے بھی ہیں اور یقین کرلو کہ آسمان پر بھی ایک روحانی تیاری ہے اور وہاں بھی ایک کشش پیدا ہوگئی ہے جو زمینی کشش سے لڑنا چاہتی ہے ۔ پس ایسے دن سخت خوفناک ہیں جب کہ زمین غفلت اور برائی میں انتہائی درجہ پر ترقی کرجائے کیونکہ روحانی لڑائی کیلئے وہی وعدہ کے دن ہیں جن کو نبیوں نے طرح طرح کے استعارات میں بیان کیا ہے اور بعض نے اس مثال میں اس کو پیش کیا ہے کہ یہ آسمانی فرشتوں اور زمینی شیطانوں کی ایک آخری لڑائی