اس رسالہ میں ہمارا یہ ارادہ ہے کہ دنیا کو دکھائیں کہ جس قدر ہمارا یہ زمانہ اپنی جسمانی حالت کے رو سے ترقی کر گیا ہے اسی قدر اپنی روحانی حالت کے رو سے تنزل میں ہے یہاں تک کہ روحوں میں یہ برداشت ہی نہیں رہی کہ وہ پاک سچائیوں کو چھو بھی سکیں بلکہ انسانوں پر ایک غور کی نظر ڈالنے سے ثابت ہو رہا ہے کہ مخفی طور پر ایک بھاری کشش ان کو نیچے کی طرف کھینچ رہی ہے اور وہ دمبدم ایک گڑھے کی طرف حرکت کررہے ہیں جس کو دوسرے لفظوں میں اسفل السافلینکہہ سکتے ہیں اور استعدادوں پرایک ایساانقلاب آگیا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی خوبصورتی کی نہایت تعریف کررہے ہیں جو روحانیت کی نظر سے سخت مکروہ اور بدشکل ہیں ۔ ہرایک کانشنس محسوس کررہاہے کہ ایک کشش اس کو نیچے کی طرف لے جارہی ہے اور انہی کششوں کے برباد کن اثروں سے ایک عالم تباہ ہوگیا ہے ۔ پاک سچائیوں کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھا جاتا ہے اور سچ مچ روبخدا ہوجانے کو ایک حماقت سمجھا جاتا ہے ۔ تمام نفوس جو زمین پر ہیں یک لخت دنیا پر سرنگوں نظر آتے ہیں گویا ایک پنہانی قوت جاذبہ سے معذور اور مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ دنیا کا تمام کاروبارکششوں پرہی چلتا ہے۔ جس پہلومیں یقین کی قوت زیادہ ہے وہ اس دوسرے پہلوکو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور چونکہ یہ فلاسفی نہایت ہی صحیح ہے کہ ایک کشش کو صرف وہ کشش روک سکتی ہے جو اس کی نسبت بہت زبردست اور طاقتور ہواس لئے یہ دنیا جو اس سفلی کشش سے متاثر ہوکر نیچے کی طرف کھینچی جارہی ہے اس کا اوپر کی طرف رخ کرنا بالکل جائے