اشاعت یہ کتاب نزول المسیح زیر طبع تھی کہ مولوی کرم دین ساکن بھین نے جس کے خطوط اس کتاب میں درج کئے گئے ہیں ایک مقدمہ دائر عدالت کیا کہ مجھ کو کذاب اور لئیم مواہب الرحمن میں ( جو حضرت اقدسؑ کی عربی تالیفات سے ہے) لکھا گیا ہے اور اس کتاب میں میرے جو خطوط لکھے گئے ہیں وہ جعلی ہیں اور ایک نسخہ اس کا کسی ذریعہ سے حاصل کر کے اس کو عدالت میں پیش کیا جس کی وجہ سے کتاب کے طبع ہونے میں روک پیش آ گئی یہ مقدمہ مع دیگر مقدمات کے دو ڈھائی سال تک جاری رہا اور آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں (نسبت انجام مقدمات) کے مطابق یہ مقدمات فیصل ہوئے اور حضرت اقدس و اطہرؑ نے ان کے فیصلہ کے بعد ایک کتاب اور لکھنی شروع کی جس کا نام نصرۃ الحق رکھا اور جو بعد میں براہین احمدیہ حصہ پنجم کے جلیل القدر نام سے موسوم ہوئی اور اس کے اندر مقدمات میں جو جو تائیدات الٰہیہ آپ کے شامل حال رہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے اوائل کتاب میں ہی کرمدین مدعی کے متعلق یہ شعر تحریر فرمایا کہ ؂ کذاب اس کانام دفاتر میں رہ گیا چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بَہ گیا کتاب نصرۃ الحق بھی زیر طبع ہی تھی کہ ایک فتنہ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے ارتداد کا اٹھا جس کے دفع کرنے کے واسطے آپ نے حقیقۃ الوحی ایک ضخیم کتاب جو سات۷۰۰ سو صفحہ کی ہے تصنیف فرمائی اور اس میں دو سو۲۰۸ آ ٹھ نشانات کا ذکر بھی آپ نے فرمایا جو آپ کی تصدیق میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت کے طور پر ظہور پذیر ہوئے اس کے ختم کرنے پر ارادہ تھا کہ یہ کتاب اور نیز نصرۃ الحق کو مکمل کیا جاوے کہ انہیں ایام میں آپ کا ایک مضمون آریوں کے جلسہ میں پڑھا گیا جس کے بالمقابل آریوں کی طرف سے گالیوں سے بھرا ہوا لیکچر حضرت کے خدام کی حاضری میں سنایا گیا ا س کے جواب میں کتاب چشمہ ء معرفت جو ساڑھے تین سو۳۵۰ صفحہ کی پُر معارف کتاب ہے ، آپ نے شائع فرمائی۔ ابھی اس کو شائع کئے دو تین روز گذرے تھے کہ پیغام صلح کے لکھنے پر ضرورت وقت نے حضور کو توجہ دلائی وہ لکھ ہی رہے تھے اور ختم کیا ہی تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے آپؔ کی طلبی کا پیغام آ پہنچا اور رسالہ الوصیت مجریہ ۱۹۰۶ ؁ء کی پیشگوئیوں کے مطابق الرّحیل ثم الرّحیل کا نقارہ بج گیا۔