ان حالات کے ماتحت اس کتاب کا شائع ہونا معرض التواء میں رہا۔ چونکہ اس کے شروع میں نیز کشتی نوح میں آپ نے اس کے اندر ڈیڑھ سو۱۵۰ پیشگوئیوں کے لکھنے کا اور شامل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لئے یہ بات بتا دینے کے لائق ہے کہ حقیقۃ الوحی متذکرہ صدر کتاب حضرت ؑ نے اس کے بعد لکھی تھی جس میں دو سو۲۰۸ آ ٹھ نشانات آپ نے قلمبند فرمائے ہیں اور بعض کے گواہان رؤیت بھی تحریر فرمائے ہیں ۔ اس لئے جو شخص حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرے گا وہ بخوبی سمجھ لے گا کہ ڈیڑھ سو نشانات کی تکمیل کی بجائے دو سو۲۰۸ آ ٹھ نشانات آپ نے اس کتاب میں لکھ کر وعدہ کو پورا فرمادیا ہے اور حقیقۃ الوحی نزول المسیح کا تکملہ کیا بلکہ نأت بخیر منھا کے مطابق بڑھ چڑھ کر معاوضہ ہے۔ اس لئے اب ضرورت نہیں کہ ان نشانات کو لکھ کر اس جگہ ایک سو پچاس پورے کئے جاویں کیونکہ حضرت موعودؑ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کتاب حقیقۃ الوحی میں وہ ضرورت سے بہت کچھ زیادہ موجود ہیں ۔ نظر براں جس قدر کتاب ھٰذا حضرت اقدسؑ کے روبرو طبع ہوئی تھی اسی کو پبلک کے پیش نظر کیا جاتا ہے اور قیمت بہت ہی کم اس خیال سے رکھی گئی ہے کہ ہر مستطیع و غیر مستطیع اس کو خرید کر پڑھ سکے۔ اللہ تعالیٰ پڑھنے والوں کو فہم و فراست اپنی طرف سے عطا فرماوے۔ او رچونکہ مسیحؑ جس کے نزول کا اس میں تذکرہ ہے وہ دنیا سے چلا گیا ہے اور بہت سے علوم و فیوض کے خزانے چھوڑ گیا ہے ۔ پڑھنے والوں کے دلوں کو ان علوم و فیوض کی طرف رغبت بخشے۔ آمین
واٰخردعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین
المذکّر
کمترین خادمان مسیح موعودؑ مہدی حسین مہتمم کتب خانہ حضرت ممدوح
از قادیان دارالامان
ضلع گورداسپور پنجاب
۲۵؍ اگست ۱۹۰۹ء ۸؍ شعبان المعظم ۱۳۲۷ ہجری