بھائی محمد یعقوب نے بھی تصدیق کی ہے شائد میں نے اس خواب کو سو سے زیادہ لوگوں کو سنایا ہو گا۔ چنانچہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو رہی ہے اور روحانی تلوار نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فتح کر لیا ہے اور کرتی جاتی ہے۔
سید عباس علی لدھیانوی کو ہم نے اپنے ابتدائی خطوط میں اپنے کشوف کے ذریعہ سے اس بات سے پیش از وقت اطلاع دیدی تھی کہ آپ کا انجام اچھا نہیں معلوم ہوتا ہے حالانکہ وہ اس وقت اپنے تئیں اسی راہ میں فنا شدہ ظاہر کرتے تھے ۔ چنانچہ بعض کلمات ان خطوط کے مفصلہ ذیل ہیں۔ ’’بنظر کشفی آپ کے دل میں انقباض معلوم ہوا ۔‘‘ ’’آپ کسی نئے امر کے پیش آنے پر مضطرب نہ ہوں آپ ابتلا سے بچ نہیں سکتے۔ ‘‘ ’’ نیک ظن بننا آسان ہے مگر نبھانا مشکل ۔‘‘ ’’نہایت بد نصیب وہ انسان ہے جس کا انجام آغاز کا سا جوش نہیں رکھتا۔‘‘ ان سے صاف ظاہر تھا کہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ چنانچہ چند سالوں کے بعد وہ مرتد ہو گیا۔ مکتوب میرا اُن کی خاص دستخطی موجود ہے جس میں اس پیشگوئی سے کئی سال بعد اس کا انجام بد ہوا۔ یہ مکتوب ان کی وفات کے بعد ان کے کتب خانہ سے ملا۔ اس مکتوب کے دیکھنے سے ہر یک کو معلوم ہو گا کہ دنیا کیسا عبرت کا مقام ہے جب انسان پر شقاوت کے دن آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ جس شخص کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ تُو برگشتہ ہو جائے گا اور ٹھوکر کھائیگا وہ برگشتہ ہو کر اس پیشگوئی سے کچھ فائدہ اٹھا نہ سکا۔
ان نشانوں کے گواہ منشی ظفر احمد صاحب ۔ حافظ محمد یوسف صاحب۔ محمد یعقوب صاحب۔ منشی محمد خان صاحب۔ عبداللہ سنوری وغیرہ احباب ہیں۔