جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں آفتاب کی چمک ہوتی ہے اور میں اسے کبھی اپنے دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف چلاتا ہوں اور ہر ایک وار سے ہزارہا آدمی کٹ جاتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تلوار اپنی لمبائی کی وجہ سے دنیا کے کناروں تک کام کرتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہی ہے مگر قوت آسمان سے اور میں ہر ایک دفعہ اپنے دائیں اور بائیں طرف اس تلوار کو چلاتا ہوں اور ایک مخلوق ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر تی جاتی ہے ۔ یہ خواب تھی جو میں نے مولوی عبداللہ کے پاس بیان کی اور جب میں خواب کو بیان کرچکا اور ان سے تعبیر پوچھی تب مولوی عبداللہ نے اس کی تعبیر یہ بتلائی کہ تلوار سے مراد اتمام حجت اور تکمیل تبلیغ ہے اور میرے دلائل قاطعہ کی تلوار ہے اور یہ جو دیکھا کہ وہ تلوار دائیں طرف زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے اس سے مراد دلائل روحانیہ ہیں جو از قسم خوارق او رآسمانی نشانوں کے ہوں گے۔ اور یہ جو دیکھا کہ وہ بائیں طرف زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے اس سے مراد دلائل عقلیہ وغیرہ ہیں جن سے ہر ایک فرقہ پر اتمام حجت ہو گا۔ پر انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو امیدوار تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ اس خواب کے ایک حصہ کے حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے میاں محمد جان صاحب کپورتھلہ۔ میاں فتح دین صاحب۔ میاں عبداللہ صاحب پشاوری۔ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب ہیں۔