جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں ہیں آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے اور جب میں دنیا پر تھا تو امید رکھتا تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا یہ میری خواب ہے۔ العن من کذب وایّد من صدق۔ جب مولوی صاحب غزنوی ہماری مذکورہ بالا خواب کے مطابق فوت ہو گئے تو جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے تھوڑے دنوں کے بعد میں نے ان کو خواب میں دیکھا کہ میں اپنا ایک خواب ان کے آگے بیان کر رہا ہوں اور وہ ایک بازار میں کھڑے ہیں جو ایک بڑے شہر کا بازار ہے اور پھر میں ان کے ساتھ ایک مسجد میں آ گیا ہوں اور ان کے ساتھ ایک گروہ کثیر ہے اور سب سپاہیانہ شکل پر نہایت جسیم مضبوط وردیاں کسے ہوئے اور مسلح ہیں اور انہیں میں سے ایک مولوی عبداللہ صاحب ہیں کہ جو ایک قوی اور جسیم جوان نظر آتے ہیں ۔ وردی کسے ہوئے ہتھیار پہنے ہوئے اور تلوار میان میں لٹک رہی ہے اور میں دل میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لوگ ایک عظیم الشان حکم کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ باقی سب فرشتے ہیں مگر تیاری ہولناک ہے تب میں نے مولوی عبداللہ صاحب کو اپنا ایک خواب سنایا میں نے انہیں کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک نہایت چمکیلی اور روشن تلوار میرے ہاتھ میں ہے جس کی نوک آسمان میں ہے اور قبضہ میرے پنجہ میں اور اس تلوار میں سے ایک نہایت تیز چمک نکلتی ہے جیسا کہ خلیفہ نورالدین صاحب۔ منشی تاج الدین صاحب۔ شیخ رحمت اللہ صاحب ۔ میرحامد شاہ صاحب۔ حکیم حسام الدین صاحب۔ شیخ یعقوب علی صاحب اڈیٹر الحکم