میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی۔ اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہوجانے کی امید بھی ہو گئی تھی پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی۔ ہم نے جب دعا کی تو بلا توقف الہام ہوا ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ ۔ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہو گا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ہی ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا۔۱؂ ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً 3پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور توکل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ’’دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔‘‘ تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں ۔ چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔۲؂ ۱؂ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور عبداللہ سنوری ہیں۔ ۲؂ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ہیں۔