ایک دفعہ مجھے مرض ذیا بیطس کے سبب بہت تکلیف تھی کئی دفعہ سو۱۰۰، سو۱۰۰ مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا ۔ دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہو گئے۔ جن سے کار بنکل کا اندیشہ تھا۔ تب میں دعا میں مصروف ہوا تو یہ الہام ہوا ’’والموت اذا عسعس‘‘ یعنی قسم ہے موت کی جبکہ ہٹائی جائے۔ چنانچہ یہ الہام بھی ایسا پورا ہوا کہ اس وقت سے لے کر ہمیشہ ہماری زندگی کا ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہے۔ میرے چوتھے لڑکے مبارک احمد کی پیدائش سے دو ماہ پہلے یہ الہام ہوا تھا۔ ’’ربّ اصح زوجتی ھذہ‘‘ یعنی اے میرے رب میری اس زوجہ کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے شفا دے۔ جس وقت یہ الہام ہوا اس وقت میری بیوی بالکل تندرست تھی گویا اس الہا م میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ کسی بیماری کا اندیشہ ہے لیکن بعد میں شفا ہو جائے گی۔ چنانچہ دو ماہ کے بعد یہ الہام ہر دو پہلو سے پورا ہوا۔ یعنی میری بیوی کو ایک سخت مرض نے گھیرا اور خطرناک حالت ہوئی لیکن آخر اللہ تعالیٰ نے شفا دی۔ ۱؂ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا ’’ربّ ارنی کیف تحی الموتٰی رب اغفر و ارحم من السماء ۔‘‘ اے میرے ربّ مجھے دکھا کہ تو مردہ ۱؂ اس کے گواہ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی نور الدین صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مفتی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر احباب ہیں اور دوسرے شہروں میں بذریعہ خطوط کے یہ الہام لکھے گئے۔