ہوا۔ ان کید کنّ عظیم یعنی اے عورتو تمہارے فریب بہت بڑے ہیں اور اس حالت میں ہم ان کو خط کا مضمون بھی نہیں سنا سکتے تھے اس مصیبت کو سن کر ان کی جان کا اندیشہ تھا اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے ۔ تب میں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے آگے جو اس وقت قادیان میں موجود تھے یہ واقعہ بیان کیا اور ساتھ ہی پوشیدہ طور پر شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا۔ جس نے واپس آ کر بیان کیا کہ اسحاق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں اور چند روز کی بیماری اور گھبراہٹ اور اشتیاق ملاقات کے سبب یہ خلاف واقعہ خط لکھا کر بھیجا گیا تھا۔۱؂ ایک دفعہ ہمارے ایک مخلص دوست سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس کسی اپنی تشویش میں دعا کے خواستگار ہوئے جب دعا کی گئی تو الہام ہوا۔ ’’ قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے ۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔ ‘‘ یہ ایک بشارت ان کا غم دور کرنے کے بارے میں تھی۔ چنانچہ چند ہفتہ کے بعد ہی خدا تعالیٰ نے ان کو اس پیش آمدہ غم سے رہائی بخشی۔ پھر ایک مدت کے بعد اس شعر کے دوسرے مصرع کے مطابق ایک اور سخت ابتلا پیش آیا جس سے امید ہے کہ کسی وقت خدا رہائی دے گا جس طرح چاہے گا۔۲؂ ۱؂ اس نشان کے گواہ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ شیخ حامد علی ۔ میر محمد اسماعیل صاحب۔ ان کی والدہ و دیگر کئی مرد اور عورتیں ۔ ۲؂ اس نشان کے گواہ خودسیٹھ صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نور الدین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر بہت سے احباب ہیں۔