محض دھوکا دہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہہ دیا کہ لودیانہ آ گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ سب اتر پڑے اور جب ریل چل دی تب ہم کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور اسٹیشن تھا اور ایک بیابان میں اترنے سے سب جماعت کو تکلیف ہوئی اور اس طرح پر الہام مذکورہ کا دوسرا حصہ بھی پورا ہو گیا۔۱
ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمٰعیل کا (جن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی ) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے آخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق بھی فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے ۔ ایسی ناگہانی دو موتوں کی خبر میں ان کو سنا نہ سکا اور میں سخت بے قراری میں پڑ گیا کہ جن کو بلاتے ہیں وہ خود خطرناک تپ میں مبتلا ہے اور میں ڈرتا تھا کہ اگر میں اس خط کا مضمون اس بیماری کی حالت میں ان کو سناؤں تو جان کا اندیشہ ہے رات کو اس فکر سے نیند میری جاتی رہی کہ کیا کروں اور میں اس خط کو پوشیدہ بھی نہیں رکھ سکتا تھا جب ایک حصہ رات کا گذر گیا تو فکر کرتے کرتے میرا دل نہایت بے قرار ہو گیا جس کا میں اندازہ نہیں کر سکتا تب مجھے اسی تشویش میں ایک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام
۱ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ۔ شیخ عبدالرحیم صاحب ساکن انبالہ چھاؤنی اور فتح خان ایک افغان ہیں۔