ایک دفعہ الہام ہوا ’’ بے ہوشی پھر غشی پھر موت ‘‘ تفہیم ہوئی کہ ہمارے بڑے مخلص مریدوں میں سے کسی کو ایسا واقعہ پیش آئے گا یعنی پہلے بے ہوشی ہو گی پھر غشی طاری ہو گی پھر مر جائے گا۔ یہ الہام یہاں رہنے والے احباب کو سنایا گیا اور خطوط کے ذریعہ سے باہر بھی لکھا گیا تھا آخر ایک دو ہفتہ کے اندر ہمارے مخلص مرید ڈاکٹر بوڑے خان صاحب اسسٹنٹ سرجن قصور عین الہام کے الفاظ کے مطابق یک دفعہ بے ہوش ہو کر اور پھر غش میں پڑ کر فوراً فوت ہو گئے اور ان کی وفات کا تار آیا۔ ۱
ایک دفعہ ہمیں لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ ’’اس سفر میں کچھ نقصان ہو گا اور کچھ ہم و غم پیش آئے گا‘‘ اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جب کہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اتار کر سید محمد حسن خان صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک اسٹیشن دو راہہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے
۱ اس نشان کے گواہ بہت آدمی یہاں کے اور دیگر مقامات کے ہیں مثلاً مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نور الدین صاحب۔مفتی محمد صادق صاحب۔مولوی محمد علی صاحب۔مولوی شیر علی صاحب۔