خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر اعظم پٹیالہ کسی ابتلا اور فکر اور غم میں مبتلا تھے ان کی طرف سے متواتر دعا کی درخواست ہوئی اتفاقاً ایک دن یہ الہام ہوا ۔ ’’چل رہی ہے نسیم رحمت کی ۔ جو دعا کیجئے قبول ہے آج۔ ‘‘ اس وقت مجھے یاد آیا کہ آج انہیں کے لئے دعا کی جائے چنانچہ دعا کی گئی اور ان کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی ان کاخط میرے کسی بستہ میں اب تک پڑا ہو گا اور وہی اس بات کا کامل گواہ ہے۔
ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن پہلے الہام ہوا ۔ ’’جنازہ‘‘ اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دیدی چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہوئے۔ اس واقعہ کے بہت لوگ گواہ ہیں۔
منجملہ ان نشانوں کے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے ایک یہ ہے کہ جب کتاب امہات المومنین عیسائیوں کی طرف سے شائع ہوئی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اس مضمون کا میموریل بھیجا کہ اس مضمون کی اشاعت بند کی جائے اور مصنف سے باز پُرس ہو مگر میں ان کے میموریل کے سخت مخالف تھا اور میں نے اپنی تحریر میں صاف طور پر شائع کیا تھا کہ یہ طریق اچھا نہیں مگر ان لوگوں نے میری صلاح کو قبول نہ کیا بلکہ
ان واقعات کے گواہ بہت سے آدمی ہیں مثلاً مفتی محمد صادق صاحب۔
مولوی محمد علی۔ مولوی شیر علی صاحبان۔