جب بالمقابل تفسیر نویسی میں مخالف مولوی عاجز آ گئے اور مہر علی شاہ گولڑی نے کئی طرح کی قابل شرم کارروائیاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو یک طرفہ طور پر تفسیرالقرآن کا معجزہ عطا فرمایا اور ستر۷۰ روز کے عرصہ میں رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا ۔ اس عرصہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آئیں اور بہت سا وقت بیماری میں گذرا۔ اس نشان سے زیادہ تر ہمارے قادیان میں رہنے والے احباب حصہ لے گئے کیونکہ وہ ہماری روز مرہ حالت سے واقف تھے۔ حاصل کلام انہیں دنوں میں اس رسالہ کے متعلق یہ الہام ہوا کہ منعہ مانع من السّماء یعنی روک دیا اس کو روکنے والے نے آسمان سے۔ سو یہ الہام اس صفائی سے پورا ہوا ہے کہ اب تک میاں مہر علی اس کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ان کا کوئی حامی جواب دینے پر قادر ہو سکا۔ اگر کارروائی کی تویہ کی کہ صرف اردو میں ایک کتاب لکھی مگر آخر تحریری ثبوت سے ثابت ہوا کہ وہ بھی اپنی ذاتی لیاقت سے نہیں بلکہ مولوی محمد حسن متوفی کے نوٹوں کا بعینہا سرقہ تھا یہاں تک کہ اس نادان نے اس کی قابل شرم غلطیوں کو بھی صحیح سمجھ لیا اور اس مال مسروقہ اور مجموعہ اغلاط کا نام سیف چشتیائی رکھا۔ وہ ایسی سیف تھی جو انہیں پر چل گئی۔۱
مر گیا بد بخت اپنے وار سے
کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے
کھل گئی ساری حقیقت سیف کی
کم کرو اب ناز اس مُردار سے
۱۔ اس نشان کا گواہ اول تو خود کتاب اعجاز المسیح ہے اور بہت سے مخلص جو اس جگہ موجود تھے۔
مثلاً مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مفتی محمدصادق صاحب۔
مولوی محمد علی صاحب۔ حکیم فضل دین صاحب۔ پیر منظور محمد صاحب۔ پیر سراج الحق صاحب۔