بدگوئی کی۔ اسی اثنا میں مجھے الہام ہوا کہ ستذکرون ما اقول لکم وافوض امری الی اللّٰہ یعنی عنقریب جنہیں یہ بات میری یاد آئے گی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ تمہیں اپنے میموریل میں ناکامی رہے گی اور جس امر کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو رد کرنا اور ان کو جواب دینا۔ اس امر کو میں خدائے تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ یہ الہام قبل از وقت ایک گروہ کثیر کو سنایا گیا تھا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا یعنی انجمن کی وہ درخواست نا منظور ہوئی۔ جب کہ دلیپ سنگھ کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور تھی تب مجھے دکھلایا گیا کہ دلیپ سنگھ اپنے اس ارادہ میں ناکام رہے گا اور وہ ہرگز ہندوستان میں قدم نہیں رکھے گا چنانچہ میں نے اس کشف کو لالہ شرمپت ساکن قادیان کو جو آریہ ہے اور کئی ہندو مسلمانوں کو بتلا دیا اور ایک اشتہار بھی شائع کر دیا جو فروری ۱۸۸۲ ؁ء میں چھپ کر تقسیم کر دیا تھا۔ چنانچہ ایساہی ہوا کہ دلیپ سنگھ عدن سے واپس ہوا اور اس کی عزت و آسائش میں بہت خطرہ پڑا جیسا کہ میں نے صد ہا آدمیوں کو خبر دی تھی۔ ۱؂ ایک دفعہ ہمارے مخلص میاں عبداللہ سنوری پٹواری علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اول مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہلِ دنیا کی نیکی و بدی کے ۱؂ ۔ اس نشان کے گواہ اکثر قادیان کے لوگ ہیں اور علاوہ ان کے اشتہار جو فروری ۱۸۸۲ ؁ء میں چھاپ کر شائع کیا تھا۔