جولائی ۱۸۹۷ء میں جب عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اسسٹنٹ سرجنی کا آخری امتحان دیا اور ہم نے ان کے لئے دعا کی تو الہام ہوا ’’تم پاس ہو گئے ہو‘‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ پاس ہو گیا ہے۔ کیونکہ مخلصوں کے لئے جو یگانگت کی حدتک پہنچتے ہیں ایسے فقرے آ جاتے ہیں چنانچہ بائیبل میں بھی اس طرز کی کئی پیشگوئیاں درج ہیں بالآخر عزیز مذکور اپنے امتحان میں بڑی خوبی سے کامیاب ہوا اور لاہور کے میڈیکل کالج میں ہوس سرجن مقرر ہوا۔۱؂ ہمارے ایک مخلص دوست مرزا محمد یوسف بیگ صاحب ہیں جو سامانہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے رہنے والے ہیں اور ایک مدت دراز سے ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسی تعلق میں تمام عمر رہیں گے۔ اور اسی میں اس دنیا سے گذریں گے۔ ایک دفعہ ان کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم بیمار ہوا تو انہوں نے میری طرف دعا کے لئے خط لکھا ہم نے دعا کی تو کشف میں دیکھا کہ ابراہیم ہمارے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچا دوجس کے معنی یہی دل میں ڈالے گئے کہ اب ان کی زندگی کا خاتمہ ہے ۔ اگرچہ دل نہیں چاہتا تھا تا ہم بہت سوچنے کے بعد میرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اس حادثہ سے اطلاع دی گئی اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ جوان غریب مزاج فرمانبردار بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے اس جہان فانی سے چل بسا۔۲؂ ۱؂۔ اس نشان کے گواہ ہماری جماعت کے بہت سے آدمی اور میرزا یعقوب بیگ کے ہم جماعت ہیں۔ ۲؂۔ مرزا محمد یوسف بیگ صاحب زندہ موجود ہیں جو اس واقعہ کے گواہ ہیں اور ان کے سوا اور بہت سے آدمی بھی اس کے گواہ ہیں۔