ہمارے دوست مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم ایک مدت سے بیمار چلے آتے تھے۔ آخر ۱۹۰۰ء میں ان کی حالت بہت بگڑ گئی اور وہ فاضلکا میں اپنے بھائی مرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن کے پاس چلے گئے کچھ دنوں کے بعد دعا کے لئے ان کا خط آیا ہم نے دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ایسی کہ گویا چاند کے ٹکڑے اکٹھے کر کے بنائی گئی ہے اور ایک شخص نہایت خوش شکل عزیز مرحوم کو اس سڑک پر لئے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اس خواب کی تعبیر یہی تھی کہ ان کا خاتمہ بخیر ہو گا اور وہ بہشتی ہے اور نورانی چہرہ والا شخص ایک فرشتہ تھا جو اس عزیز کو بہشت کی طرف لے جا رہا تھا۔ ہم نے یہ خواب مرزا یعقوب بیگ صاحب کو لکھ دیا اور اپنی جماعت میں بھی شائع کر دیا چنانچہ ۶ ماہ کے بعد اس عزیز نے وفات پائی اور جب ہمارے پاس تار پہنچا اور ہم نے تعزیت کا خط لکھنا شروع کیا اور ہماری توجہ اس عزیز کی طرف تھی کہ کس طرح وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ناپدید ہو گیا تو اس حالت میں الہام ہوا ’’ مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہوں ‘‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عزیز مرحوم کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی۔۱؂ مرحوم مذکور نیک بخت۔ جوان صالح اور اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا۔ ۱؂ اس کے گواہ مرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔ حکیم فضل دین صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔ شیخ عبدالرحمن قادیانی صاحب۔ شیخ عبدالرحیم صاحب اور کثیر جماعت لاہور ۔ کپورتھلہ ۔ سیالکوٹ وغیرہ