ایک دفعہ میں خود سخت بیمار ہو گیا اور حالت ایسی بگڑی کہ بیماری سے جانبر ہونا مشکل معلوم ہوتا تھا تب یہ الہام ہوا ۔ ’’ما کَان لنفسِِ ان تموت الا باذن اللہ وامّا ما ینفع الناس فیمکث فی الارض چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق عین ناامیدی کی حالت میں شفا بخشی اور یوں تو ہزارہا لوگ شفا پاتے ہیں مگر ایسی ناامیدی کی حالت میں سینکٹروں انسانوں میں دعویٰ سے یہ پیش کرنا کہ شفا ضرور حاصل ہو جائے گی یہ انسان کا کام نہیں۔
شروع اکتوبر ۱۸۹۷ ء میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک گواہی کے لئے ایک انگریز حاکم کے پاس حاضرکیا گیا ہوں اور اس حاکم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے والد کا کیا نام ہے لیکن جیسا کہ شہادت کے لئے دستور ہے مجھے قسم نہیں دی۔ پھر ۸؍اکتوبر۱۸۹۷ ء کو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس مقدمہ کا سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔ یہ خواب مسجد میں عام جماعت کو سنا دی گئی تھی آخر ایسا ہی ظہور میں آیا اور سپاہی سمن لے کر آگیا اور معلوم ہوا کہ اڈیٹر اخبار ناظم الہند لاہور نے مجھے گواہ لکھا دیا ہے جس پر مولوی رحیم بخش پرائیویٹ سکرٹری نواب بہاولپور نے لائبل* کا مقدمہ ملتان میں کیا تھا۔ سو جب میں ملتا ن میں پہنچ کر عدالت میں گواہی کے لئے گیا تو ویسا ہی ظہور میں آیا حاکم کو ایسا سہو ہو گیا کہ قسم دینا بھول گیا اور اظہار شروع کر دئیے۔۱
۱ اس نشان کے گواہ ایک گروہ کثیر ہے جیسا خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر پشاور۔ مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔
شیخ عبدالرحمن صاحب۔