کے پاس گر پڑا ہے اور سخت چوٹ آئی ہے اور کرتہ خون سے بھر گیا ہے ۔ خدا کی قدرت کہ ابھی اس کشف پر شائد تین منٹ سے زیادہ نہیں گذرے ہوں گے کہ میں دالان سے باہر آیا اور مبارک احمد کہ شائد اس وقت سوا دو سال کا ہو گا چٹائی کے پاس کھڑا تھا بچوں کی طرح کوئی حرکت کر کے پیر پھسل گیا اور زمین پر جا پڑا اور کپڑے خون سے بھر گئے اور جس طرح عالم کشف میں دیکھا تھا اسی طرح ظہور میں آ گیا۔ اس واقعہ کی بہت سی عورتیں خادمہ وغیرہ جو ہمارے گھر میں ہیں گواہ ہیں۔ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد میرا چوتھا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ اس سے چند دنوں کے بعد مبارک احمد کو سخت تپ ہوا اور آٹھ دفعہ غش ہو کر آخری غش میں ایسا معلوم ہوا کہ جان نکل گئی ہے۔ آخر دعا شروع کی اور ابھی میں دعا میں تھا کہ سب نے کہا کہ مبارک احمدفوت ہو گیاہے۔ تب میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو نہ دم تھا نہ نبض تھی آنکھیں میّت کی طرح پتھرا گئیں تھیں۔ لیکن دعا نے ایک خارق عادت اثر دکھلایا اور میرے ہاتھ رکھنے سے ہی جان محسوس ہونے لگی یہاں تک کہ لڑکا زندہ ہو گیا اور زندگی کے علامات پیدا ہو گئے۔ تب میں نے بلند آواز سے حاضرین کو کہا کہ اگر عیسیٰ بن مریم نے کوئی مردہ زندہ کیا ہے تو اس سے زیادہ ہرگز نہیں یعنی اس طرح کا مردہ زندہ ہوا ہو گا نہ کہ وہ جس کی جان آسمان پر پہنچ چکی ہواور ملک الموت نے اس کی روح کو قرار گاہ تک پہنچا دیا ہو۔۱؂ ۱؂ اس واقعہ کے قادیان میں رہنے والے بہت سے مرد اور عورتیں گواہ ہیں۔