میں آنکھوں کو کیسا اندیشہ ہوتا ہے ۔ پھر کون سی طاقت ہے جس نے پہلے سے خبر دے دی کہ یہ قانون تجھ پر توڑدیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی کر کے دکھا دیا۔ کیا یہ انسان کا کام ہے؟ ایسی مرض کی حالت میں دعویٰ کرنا تو درکنار کون ہے جو عین تندرستی اور جوانی کی حالت میں بھی دعویٰ کر سکے کہ میری آنکھیں فلاں وقت تک محفوظ رہیں گی۔۱
ہماری ایک لڑکی عصمت بی بی نام تھی ایک دفعہ اس کی نسبت الہام ہوا کہ کرم الجنۃ دوحۃ الجنۃ۔ تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی سو ایسا ہی ہوا۔ ہم اس خیال سے کہ مبادا کسی ناعاقبت اندیش کے دل میں ایسے نشانات کی نسبت کچھ اعتراض پیدا ہو کہ عمر بڑھانے کے لئے دعا کیوں نہ کی گئی۔ اور کی گئی ہو تو وہ قبول کیوں نہ ہوئی یہ امر واضح کر دیتے ہیں کہ ایسے الہامات کے بعد ملہم لوگوں کو فطرتاً دو قسم کی حالتیں پیش آتی ہیں کبھی تو دعا کی طرف غیب سے توجہ اور جوش دیا جاتا ہے اور وہ اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ فرمایا ہے کہ دعا قبول کرے اور کبھی خدا دعا کو قبول کرنا نہیں چاہتا اور اپنی مرضی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ تب دعا کرنے والے کی طبیعت پر قبض پیدا کر دیتا ہے اور دعا کے اسباب اور حضور اور جوش کو ظہور میں نہیں آنے دیتا۔۲
۱ اس الہام کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں ذیا بیطس کے مرض کا حال ڈاکٹر لوگوں سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اور آنکھوں پر رحمت نازل ہے۔
۲ یہ الہام بہت سے مرد اور عورتوں کو سنایا گیا تھا اور اس وقت قادیان میں بہت ہوں گے جو گواہی دے سکیں ۔