کہ امام بی بی جو ہمارے جدّی شرکا ء میں سے ایک عورت تھی مر جائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔ یہ الہام ان دوستوں کو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے سنا دیا گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکور مر گئی اور اس کی نصف زمین ہمیں اور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی۔ مرنے کو تو ہر ایک شخص مرتا ہے مگر اس میں تین بڑے نشان تھے (۱) قبل از وقت اس واقعہ کی خبر دینا اور پھر اس عورت کا معمولی عمر میں ہی مر جانا۔ (۲) ہمارا اس وقت تک زندہ رہنا (۳) زمین کا مطابق الہام کے تقسیم ہونا۔۱؂ مجھے اپنے مرض ذیابیطس کی وجہ سے آنکھوں کا بہت اندیشہ تھا کیونکہ اس مرض کے غلبہ سے آنکھ کی بینائی کم ہو جایا کرتی ہے اور نزول الماء ہو جاتا ہے اس اندیشہ کی وجہ سے دعا کی گئی تو الہام ہواکہ ’’نزلت الرحمۃ علٰی ثلٰثٍ۔ العین وعلی الاُخریین۔‘‘ یعنی رحمت تین اعضاء پر نازل ہوگی۔ ایک تو آنکھ اور دو اور عضو۔ اس جگہ آنکھ کا ذکر تو کر دیا۔ لیکن دو باقی اعضاء کی تصریح نہیں فرمائی۔مگر لوگ کہا کرتے ہیں کہ زندگی کا لطف تین عضوکے بقا میں ہے۔ آنکھ۔ کان۔ پران۔ اس الہام کے پورا ہونے کی کیفیت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ قریباً اٹھارہ سال سے یہ مرض مجھے لاحق ہے اور ڈاکٹر اور حکیم لوگ جانتے ہیں کہ اس مرض ۱؂۔ اس نشان کے گواہ مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ شیخ حامد علی صاحب اور ہمارے کنبہ کے اکثر مرد اور عورتیں ہیں۔