جب ہمارے شرکاء مخالفین مرزا امام الدین و مرزا نظام الدین نے ہماری مسجد کے دروازہ کے راہ میں ایک ایسی دیوار کھینچی جو کہ ہمارے واسطے اور ہمارے مہمانوں کے واسطے بہت ہی تکلیف کا موجب ہوئی اور اس امر کی چارہ جوئی کے لئے عدالت میں نالش کی گئی اور قریب ڈیڑھ سال تک مقدمہ ہوتا رہا۔ تو اس دیوار کے بنائے جانے سے چند دن پہلے ہمیں اس کے متعلق ایک الہام ہوا کہ جو دلالت کرتا تھا کہ ایسی تکلیف عنقریب پیش آئے گی اور آخر فتح ہو گی اور وہ الہام یہ ہے الرحیٰ تدور و ینزل القضاء۔ ان فضل اللّٰہ لآت ولیس لا! حد ان یرد ما اتی__ ظفر مبین وانّما یؤخرھم لا !جل مسمّی۔ چکی پھرے گی اور قضا نازل ہو گی یقیناًخدا کا فضل آنے والا ہے اور کسی کی طاقت نہیں جو رد کرے اس کو جب آگیا۔ وہ فتح مبین ہو گی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ان لوگوں کو خدا نے ایک وقت تک ڈھیل دے رکھی ہے۔ یہ الہامات ۷؍جنوری کے الحکم میں اور اربعین نمبر ۳ میں شائع ہو گئے اور عین اس وقت سب احباب کو سنائے گئے چنانچہ ۷؍جنوری ۱۹۰۰ ء کو وہ دیوار بنائی گئی جس سے ہمارا راستہ آمد و رفت بند ہو گیا اور ہمارے مہمان بہت تکلیف کے ساتھ دور کے کوچوں سے ہو کر مسجد تک پہنچتے لیکن آخر عدالت کے حکم سے وہ دیوار ۲۰؍ اگست ۱۹۰۱ ء کو گرائی گئی اور مقدمہ کا خرچہ بھی ہمارے مخالفین پر پڑا۔ فالحمدللہ ۔
ان الہامات کے گواہ سید فضل شاہ صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب ۔
مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر بہت سے احباب ہیں ۔ مثلاً شیخ یعقوب علی صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب ۔ سید عبدالمحی عرب حویزی وغیرہ