مارٹن کلارک والے مقدمہ سے قریباً پچیس سال پہلے میں ایک دفعہ خواب میں دیکھ چکا تھا کہ میں ایک عدالت میں کسی حاکم کے سامنے حاضر ہوں اور نماز کا وقت آ گیا ہے تو میں نے اس حاکم سے نماز کے لئے اجازت طلب کی تو اس نے کشادہ پیشانی سے مجھے اجازت دیدی۔ چنانچہ اس کے مطابق اس مقدمہ میں عین دوران مقدمہ میں جبکہ میں نے کپتان ڈگلس سے نماز کے لئے اجازت چاہی تو اس نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دی۔
عید اضحی کی صبح کو مجھے الہام ہو اکہ کچھ عربی میں بولو چنانچہ بہت احباب کو اس بات سے اطلاع دی گئی اور اس سے پہلے میں نے کبھی عربی زبان میں کوئی تقریر نہیں کی تھی لیکن اس دن میں عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بلیغ فصیح پُر معانی کلام عربی میں میری زبان میں جاری کی جو کتاب خطبہ الہامیہ میں درج ہے۔ وہ کئی جز کی تقریر ہے جو ایک ہی وقت میں کھڑے ہو کر زبانی فی البدیہہ کہی گئی۔ اور خدا نے اپنے الہام میں اس کا نام نشان رکھا کیونکہ وہ زبانی تقریر محض خدائی قوت سے ظہور میں آئی ۔ میں ہرگز یقین نہیں مانتا کہ کوئی فصیح اور اہل علم اور ادیب عربی بھی زبانی طور پر ایسی تقریر کھڑا ہو کر کر سکے یہ تقریر وہ ہے جس کے اس وقت قریباً ڈیڑھ سو آدمی گواہ ہوں گے۔۱
۱ اس الہام سے قبل از وقت بہت سے احباب کو اطلاع دی گئی چنانچہ شیخ رحمت اللہ صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ شیخ عبدالرحمٰن صاحب۔ ماسٹر عبدالرحمن صاحب۔ مولوی شیر علی ۔ حافظ عبدالعلی وغیرہ کثیر التعداد دوست اس کے گواہ ہیں جنہوں نے اس نشان کو بچشم خود دیکھا۔