اور کسی طرح کی تکلیف پیش نہ آئی بلکہ ہر طرح کا آرام پہنچا اور دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالت مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے مگر باوجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوت صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کئے۔ ایک شخص اہل تشیع میں سے جو اپنے آپ کو شیخ نجفی کے نام سے مشہور کرتا تھا ایک دفعہ لاہور میں آ کر ہمارے مقابلہ میں بہت شور مچانے لگا اور نشان کا طلبگار ہوا۔ چنانچہ ہم نے باشاعت اشتہار یکم ؍ فروری ۱۸۹۷ ؁ء اس کو یہ وعدہ دیا کہ چالیس روز تک تجھے اللہ تعالیٰ کوئی نشان دکھلائے گا۔ سو خدا کا احسان ہے کہ ابھی چالیس ۴۰دن پورے نہ ہوئے تھے کہ نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آ گیا تب تو شیخ ضال نجفی فوراً لاہور سے بھاگ گیا۔ ان پیشگوئیوں کے گواہ حکیم فضل دین صاحب۔ منشی تاج دین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی نور الدین صاحب۔ شیخ حامد علی صاحب۔ میاں عبداللہ صاحب سنوری۔ منشی ظفر احمدصاحب۔ مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ ہیں۔