ایک رات کو مجھے اس طرح الہام ہوا کہ جیسے اخبار عن الغائب ہوتا ہے اور وہ یہ الفاظ تھے انّی أَفِرُّ مع اھلی الیک۔ یہ الہام سب دوستوں کو سنایا گیا چنانچہ اسی دن خلیفہ نورالدین صاحب کا جموں سے خط آیا کہ اس شہر میں طاعون کا زور پڑ گیا ہے اور میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنے سب بال بچے کو ساتھ لے کر قادیان چلا آؤں۔۱
ایک دفعہ قادیان کے آریوں نے بہت اصرار کیا کہ کوئی نشان دکھلاؤ اور ہمارے مخالف شرکاء مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین بھی نشان دیکھنے کے طلبگار تھے۔ تب ان سب پر حجت ملزمہ قائم کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے یہ پیشگوئی کی کہ مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین پر اکتیس ماہ کے اندر ایک سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا آدمی مر جائے گا جس کا مرنا ان کے لئے تکلیف اور تفرقہ کا موجب ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب اکتیس ماہ کے پورا ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے تو مرزا نظام الدین کی لڑکی جو کہ امام الدین کی برادرزادی تھی ۲۵ سال کی عمر میں ایک چھوٹا سا بچہ چھوڑ کر مر گئی جس کا صدمہ ان سب پر بہت سخت ہوا اور یہ امر ان کے واسطے اور نیز آریوں کے واسطے ایک بڑا نشان ہوا۔۲
۱۔ اس الہام کے گواہ بہت سے آدمی ہیں جو اس وقت قادیان میں موجود تھے۔ منجملہ ان کے مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ حکیم فضل دین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب وغیرہ ہیں۔
۲۔ اس کے گواہ مرزا امام الدین نظام الدین اورقادیان کے بہت سے آر یہ ہیں۔