اور بعض عزیز دیواروں کے پیچھے روتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے الہاماً مجھے یہ دعا سکھلائی سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم اللّٰہم صل علٰی محمد وعلٰی اٰل محمداور القا ہوا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینے اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ تو اس سے شفا پائے گا چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اور ابھی پیالہ ختم نہ ہونے پایا تھا کہ مجھے بکلّی صحت ہو گئی۔ پھر یہ الہام ہوا ۔ وان کنتم فی ریب ممّا نزلنا علٰی عبدنا فأتوا بشفاء من مثلہٖ یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو ہم نے شفا دے کر دکھایا ہے تو تم اس کی نظیر پیش کرو۔ خدائے عزّ وجل کے زبردست نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ عرصہ تخمیناً بیس سال کا گذر چکا ہے کہ جب مجھے ایک مقدس وحی کے ذریعہ سے خبر دی گئی تھی کہ خدا تعالیٰ ایک شریف خاندان میں میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سید ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد پیدا ہو گی۔ اور پھر یہ الہام ہوا کہ ہر چہ بائد نو عروسی را ہمہ سامان کنم یعنی اس شادی کے تمام ضروریات کا پورا کرنا میرے ذمہ ہو گا۔ چنانچہ اس نے اس وعدہ کے موافق شادی کے بعد اس کے ہر ایک بوجھ سے مجھے سبکدوش کر دیا اور ہمیشہ کرتا رہا اور سب سامان میسر آئے اور حُسن معاشرت کے لئے سب سامان میسر آتے گئے۔ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور لالہ شرمپت اور ملاوامل کھتری اور دیگر بہت سے لوگ ہیں جن کو پہلے سے اس وحی کی خبر دی گئی تھی۔