اور کہا کہ یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔ یہ اس زمانہ کی خواب ہے جب کہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیا ہے اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میںآ آباد ہوئے ہیں۔ اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہو گا اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔ چنانچہ سالہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آرہا ہے۔۱؂ میرے والد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی وفات کا وقت جب قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی وفات سے بدیں الفاظ خبر دی والسماء والطارق یعنی قسم ہے آسمان کی اور اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آوے گا۔ سو یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ بعد غروب آفتاب میرے والد صاحب مرحوم نے وفات پائی۔۲؂ ایک مرتبہ میں ایسا سخت بیمار ہوا کہ میرا آخری وقت سمجھ کر مجھ کو مسنون طریقہ سے تین دفعہ سورۂ یٰسٓ سنائی گئی اور میری زندگی سے سب مایوس ہو چکے تھے۔ ۱؂ ۔ اس خواب کے گواہ حافظ حامد علی صاحب و دیگر ساکنان قادیان ہیں۔ ۲؂ ۔ اس پیشگوئی کے گواہ لالہ شرمپت و ملاوامل ہیں۔