کے ساتھ توڑ دیا تھا وہ توڑنا دوبارہ ثابت کر دیا جائے گا اور باواصاحب کا اپنے چولہ پر یہ لکھنا کہ اسلام کے بغیر کسی جگہ نجات نہیں اگر سکھ مذہب کے لوگ اسی ایک فقرے پر توجہ کرتے تو وہ مدت سے وہی پاک رنگ اختیار کر لیتے جو باوا صاحب نے اختیار کیا تھا ۔ باوانانک درحقیقت ایک ایسا شخص سکھوں میں گذرا ہے جس کو سکھوں نے شناخت نہیں کیا۔ اکثر لوگ اسلام کی سچائی بذریعہ کتابوں کے دریافت کرتے ہیں مگر باوا نانک نے خدا کے الہام سے سچائی اسلام کی معلوم کر لی۔ تعجب جس قوم کا پیشوا ایسا صاف دل اور حامی اسلام ہو جس نے اسلام کی گواہی دے کر تکلیفیں بھی بہت اٹھائیں اسی کی قوم اور اسی کے پیرو اسلام سے اس قدر دور اور مہجور ہیں۔
ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک دوست انگریزی خوان نجف علی نام (جو کہ کابل میں بھی گیا تھا اور شائد اب بھی وہاں ہے) میرے پاس آیا اور اس کے ہمراہ محبی مرزا خدا بخش صاحب بھی تھے۔ ہم تینوں سیر کے لئے باہر گئے تو راستہ میں کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ نجف علی نے میری مخالفت اور نفاق میں کچھ باتیں کی ہیں چنانچہ یہ کشف اس کو سنایا گیا تو اس نے اقرار کیا کہ یہ بات صحیح ۱ہے۔
عرصہ قریباً اٹھائیس برس کا گذرا ہے کہ میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا وہ نان اس نے مجھے دیا
۱ اس نشان کے گواہ مرزا خدا بخش صاحب ہیں۔