کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب تھے ہندوؤں کی طرف سے لالہ رام بھجدت وکیل تھے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب مع اپنی تمام جماعت آئے اور جنگ احزاب کی طرح ان قوموں نے بالاتفاق میرے پر چڑھائی کی تھی لیکن خداتعالیٰ نے سب کو ذلیل کیا اور مجھے بری کیا اور عبدالحمید کے مُنہ سے اس طرح سچ نکلوایا جس طرح یوسف کے مقابلہ میں زلیخا کے منہ سے سچ نکل گیا تھا اور یا جس طرح حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اس مفتری عورت کے منہ سے سچ نکل گیا تھا تا وہ بات پوری ہو جس کی طرف اس الہامی پیشگوئی میں اشارہ تھا کہ برّأ ہ اللّٰہ ممّا قالوا۔
ایک دفعہ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ شیخ مہر علی۱ صاحب رئیس ہوشیار پور کے فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے بار بار پانی ڈال کربجھایا ہے اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بیقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آوے گی اور وہ مصیبت اور بلا صرف میری دعا سے دور کی جاوے گی۔ میں نے اس خواب سے شیخ صاحب موصوف کو بذریعہ ایک مفصل خط کے اطلاع دیدی تھی چنانچہ اس کے چھ ماہ بعد شیخ مہر علی صاحب ایک ایسے الزام میں پھنس گئے کہ انہیں پھانسی کا حکم دیا گیا۔ ایسے نازک وقت میں اس کے بیٹے کی درخواست سے دعا کی گئی اور رہائی کی بشارت ان کے بیٹے کو لکھی گئی چنانچہ اس کے بعد وہ بالکل رہا ہو گئے۔
۱ اس نشان کے گواہ خود شیخ مہر علی صاحب اور ان کے بیٹے اور دیگر سینکڑوں لوگ ضلع ہوشیارپور وغیرہ کے ہیں دیکھو اشتہار ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ ء۔